چیک پوسٹ پر حملے کے بعد نیٹو سے پہلا رابطہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستانی سرحدی چیک پوسٹ پر حملے کے بعد پاکستان، نیٹو اور افغانستان کے فوجی حکام کا پہلا اجلاس طورخم سرحد پر بدھ کو ہوا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سہ فریقی مذاکرات طورخم پر قائم سرحدی رابطہ پر منعقد ہوئے۔

یہ اجلاس چھبیس نومبر 2011 کے سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کے اس حملے کے بعد پہلا اجلاس ہے جس میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

اس اجلاس میں پاکستانی فوج کی نمائندگی ڈائریکٹر جنرل ملٹر آپریشنز میجر جنرل اشفاق ندیم نے کی۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں آئیساف اور افغان نیشنل آرمی کے ساتھ سرحدی رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا تاکہ سلالہ چیک پوسٹ جیسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔

مہمند ایجنسی میں سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے حملے پر پاکستان نے ردعمل میں اپنی سرزمین کے راستے افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو رسد کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی شرائط پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا تھا۔

حکومت نے پارلیمان کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو امریکہ اور نیٹو سے مستقبل تعاون پر نظرثانی کا کام سونپا تھا اور کمیٹی نے اپنی سفارشات گزشتہ ماہ مرتب کر لی تھیں اور وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان کی حتمی منظوری پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں دی جائے گی۔

اسی بارے میں