سوئس حکام کو خط لکھیں تو نوٹس واپس: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سپریم کورٹ کا آٹھ رکنی بینچ اس اپیل کی سماعت کر رہا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم سوئس حکام کو مقدمات دوبارہ شروع کرنے کے لیے خط لکھ دیں تو عدالت اُنہیں جاری کیا گیا نوٹس واپس لے لے گی۔

یہ ریمارکس چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت کے آٹھ رکنی بینچ نے اِس اپیل کی سماعت کے دوران دیے۔ آٹھ رکنی بینچ وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کی جانب سے توہینِ عدالت کے معاملے میں فردِ جرم عائد کیے جانے کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کر رہی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم یہ کہتے ہیں کہ سوئٹزلینڈ کی عدالتوں میں کوئی مقدمہ نہیں ہے تو پھر اُنہیں سوئس حکام کو خط لکھنے میں کیا اعتراض ہے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یقینی طور پر وزیر اعظم نے این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس کے بارے میں عدالتِ عظمی کا آٹھ سو صفحات پر مشتمل فیصلہ نہیں پڑھا ہوگا اور صرف وہ سمری پڑھی ہوگی۔ یہ سمری ان کو وزارت قانون نے بھیجی ہوگی جس میں کہا گیا تھا کہ سوئس عدالتوں میں مقدمات ختم ہوچکے ہیں لہذا متعقلہ حکام کو خط لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت وزیر اعظم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتی لیکن وزیر اعظم بھی تو عدالتی احکامات کی عزت کریں۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا ٹرائیل کوئی چھوٹی بات نہیں ہے لیکن وہ اس نہج پر کیوں جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کا موکل اس مقدمے کا فیصلہ میرٹ پر چاہتے ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس طارق پرویز نے ریمارکس دیئے کہ اگر وزیر اعظم کو توہین عدالت کے مقدمے میں رہا بھی کر دیا جاتا ہے یا اُنہیں سزا بھی ہوجاتی ہے تو پھر بھی این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے دیگر آپشنز بھی موجود ہیں اور اس میں توہین عدالت کا ہتھیار استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

چیف جسٹس نے وزیرِاعظم کے وکیل اعتزاز احسن کو مخاطب کر کے کہا کہ ججوں نے رہائی کے لیے وزیرِاعظم کو درخواست نہیں دی تھی۔

اُنہوں نے کہا کہ اپیل میں جو کچھ لکھا ہے وہ بھی توہینِ عدالت کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا عدلیہ کی رہائی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وزیرِاعظم کو کھلی چھٹی دے دی جائے اور وہ جو مرضی میں آئے کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک آئینی حکومت کے سربراہ کو ایسی زبان استعمال نہیں کرنا چاہیے تھی۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی بحالی کی بات کر کے وزیراعظم نے اپنے دفاع کی کوشش کی ہے اُنہوں نے کہا کہ اُن کے موکل نے اُس جج کو بھی معاف کردیا جنہوں نے اُنہیں سزا سُنائی تھی جس پر چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے کہا کہ وہ اپنے موکل سے کہیں کہ وہ عدلیہ کی تضحیک نہ کریں۔

انہوں نے عدالت سے اپیل کی کہ وہ اپیل سے پیراگراف نمبر پینتالیس، اکیاون اور باون حذف کر دیں جس پر عدالت نے ان کی استدعا منظور کر لی۔ یہ پیراگراف ججوں اور ان کے اہلِ خانہ کی رہائی، ججوں کی بحالی اور جنرل مشرف کے تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدامات سے متعلق تھے۔

بینچ کے رکن جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ثاقب نثار نے اعتزاز احسن سے کہا کہ این آر او عملدرآمد کیس میں جو چھ آپشنز دیےگئے آپ انہیں بھول جائیں اور بتائیں کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کب اور کیسے ہوگا۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں عدالت کو یقین دہانی نہیں کرواسکتے۔ عدالت نے اعتزاز احسن سے کہا کہ کل یعنی جمعہ کے روز دن گیارہ بجے تک اپنے دلائل مکمل کرلیں۔

اسی بارے میں