تین برس میں باون ہزار امریکیوں کو ویزے جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے بتایا ہے کہ سنہ دو ہزار آٹھ سے سنہ دو ہزار گیارہ تک واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے نے باون ہزار سے زائد امریکیوں کو ویزے جاری کیے۔

جمعرات کو سینیٹ میں پیش کردہ تحریری جواب میں انہوں نے بتایا ہے کہ کُل باون ہزار چورانوے ویزے جاری ہوئے اور اس میں سے تیرہ ہزار ایک سو انسٹھ ویزے سفارت کار/ آفیشلز کی کیٹیگری میں جاری ہوئے۔

سینیٹر ایس ایم ظفر کے سوال کے جواب میں انہوں نے مزید بتایا کہ سنہ دو ہزار نو سے سنہ دو ہزار گیارہ تک ڈیفنس ایڈوائزر کی منظوری سے بائیس سو دو ویزے سفارتکار آفیشلز کو جاری ہوئے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ ایس ایم ظفر نے سوال کیا تھا کہ امریکیوں کو سکیورٹی ایجنسیز، صدر اور وزیراعظم سیکریٹریٹ کی سفارش پر جاری کردہ ویزوں کی علیحدہ علیحدہ تفصیل بتائی جائے۔ لیکن تحریری جواب میں اس کا واضح جواب نہیں۔

بڑے پیمانے پر امریکیوں کو ویزے جاری کرنے کا معاملہ پاکستان میں متنازعہ رہا ہے اور سیاسی حکومت کا اس بارے میں فوجی قیادت سے اختلاف کی خبریں بھی آتی رہی ہیں۔

پاکستان میں امریکی جاسوسی بڑھنے کے بعد جب پاکستان اور امریکہ میں حالات کشیدہ ہوئے تو امریکہ نے فوجی امداد معطل بھی کردی تھی۔

پروفیسر خورشید احمد کے سوال پر وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے سینیٹ کو بتایا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں تقریباً سات ہزار تین سو پینتیس پاکستانی مختلف الزامات میں قید ہیں۔

ان کے مطابق قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے حکومت نے وزارت خارجہ میں خصوصی سیل قائم کیا ہے اور مختلف ممالک میں ان سے ملاقات اور رہائی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ قیدیوں کو متعلقہ سفارتی مشن مختلف سہولیات بھی فراہم کر رہے ہیں۔

سینیٹ میں جمعرات کو وقفہ سوالات تو نہیں ہوئے لیکن تحریری سوال جواب جہاں اراکین کو فراہم کیےگئے وہاں میڈیا کو بھی دیےگئے۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس اب جمعہ کی صبح دس بجے ہوں گے۔

ادھر قومی اسمبلی میں چھٹے روز بھی بیسویں آئین ترمیم کا بل حکومت اور حزب محالف میں اختلاف رائے کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکا۔

اسی بارے میں