امریکہ میں بلوچستان پر بحث، پاکستان کو تشویش

Image caption بلوچستان کے معاملے پر عوامی سماعت، کیلیفورنیا سے ایوان کے رکن ڈینا روباکر نے کی

امریکی ایوانِ نمائندگان کی امورِ خارجہ کی کمیٹی میں بلوچستان کی صورتحال پر عوامی سماعت کے دوران کہا گیا ہے کہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اس شورش زدہ صوبے کے حالات معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرے۔

سماعت کے دوران بیشتر امریکی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اتفاق کیا کہ بلوچستان کی خودمختاری مسائل کا حل نہیں ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے بلوچستان پر بحث کرانے پر واشنگٹن سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان عبدالباسط نے کہا ’ہم نے اسلام آباد اور واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور کی جانب سے بلوچستان پر بحث کرائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔‘

ادھر امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مسائل، پرامن سیاسی عمل کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں اور امریکہ بلوچستان کی خودمختاری کا حامی نہیں۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی امورِ خارجہ کی کمیٹی میں بلوچستان کے معاملے پر عوامی سماعت، کیلیفورنیا سے ایوان کے رکن ڈینا روباکر نے کی جو ایک مضمون میں مطالبہ کر چکے ہیں کہ امریکہ کو خودمختار بلوچستان کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ شدت پسندی پر قابو پایا جا سکے۔

ڈینا روباکر کانگریس کے وہی رکن ہیں جنہوں نے حال ہی میں اسامہ بن لادن کے بارے میں سی آئی اے کو معلومات دینے والے پاکستانی، ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکی شہریت دینے کا بِل بھی کانگریس میں پیش کیا تھا۔

بدھ کو’اوور سائٹ اینڈ انویسٹیگیشن‘ کے لیے ذیلی کمیٹی کے تحت ہونے والی سماعت کے دوران پانچ ماہرین نے اپنے بیانات کمیٹی کو جمع کرائے جن میں واشنگٹن ڈی سی کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر کرسٹین فیئر، امریکی فوجی تجزیہ نگار اور مصنف رالف پیٹرز اور انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان کے لیے ڈائریکٹر علی دایان حسن بھی شامل ہیں۔

سماعت کے دوران پروفیسر کرسٹین فیئر نے رائے دی کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے علیحدگی پسندگروہ ہتھیار پھینک دیں اور حکومتِ پاکستان فوج کے استعمال کا راستہ ترک کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بلوچستان کے جذبات کو سمجھتی ہیں لیکن بلوچ ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث ہیں۔

کرسٹین فیئر نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے موجودہ نظام کے تحت بلوچستان کو وہ حکومتی توجہ ملنے کا امکان نہیں جس کا وہ حقدار ہے۔ تاہم انہوں نے بلوچستان کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے جو پاکستان کے موجودہ ملکی ڈھانچے کا حصہ رہتے ہوئے حل نہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نسلی تنوع، پیچیدہ تاریخ اور موجودہ جغرافیائی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے وہ اس وقت آزاد بلوچستان کے خیال کی حمایت نہیں کر سکتیں۔

کرسٹین فیئر کا کہنا تھا کہ پاکستان پر تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے زور دیا جانا چاہیے کہ اس اہم صوبے میں حالات معمول پر لائے اور عشروں سے جاری بدانتظامی اور سرکاری حمایت یافتہ تشدد کا سلسلہ ختم کرے۔

دفاعی امور کے ماہر رالف پیٹرز نے زور دیا کہ امریکہ کو پاکستان سے پوچھنا چاہیے کہ بلوچوں کو آزادی کا حق کیوں نہیں دیا جا سکتا۔

علی دایان حسن نے اپنے بیان میں کہا ہیومن رائٹس واچ بلوچستان کی آزادی کے معاملے پر کوئی موقف اختیار نہیں کرنا چاہتی اور سجھتی ہے کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور اسے پاکستانی حکومت سے توقع ہے کہ وہ حقوقِ انسانی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستانی حکومت خصوصاً فوج کی حقوقِ انسانی کے تحفظ کے معاملے میں کارکردگی کمزور ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک ایسا تنازع ہے جس کے کئی پہلو ہیں اور یہاں کئی فریق تشدد میں شریک ہیں لیکن صوبے میں حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کا سرخیل بلاشبہ پاکستانی فوج، نیم فوجی اور خفیہ ادارے ہیں۔

علی دایان حسن کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج بلوچستان میں قابض فوج کا سا کردار ادا کر رہی ہے لیکن بلوچ قوم پرست مزاحمت کار بھی شعبۂ تعلیم سے وابستہ افراد اور غیر بلوچ آبادکاروں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

ان کے مطابق بلوچستان میں رہنے والے وہ افراد جو پنجابی اور اردو بولتے ہیں، بلوچ قوم پرست مزاحمت کاروں کے حملوں کے خوف کا شکار ہیں۔

انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالے کہ بلوچستان میں اغواء کے واقعات، ماورائے عدالت قتل اور غیر قانونی گرفتاریوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور ان جرائم میں ملوث افراد کے خلاف بغیر کسی تحفظات کے مکمل تحقیقات اور کارروائی کی جائے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ جبری گمشدگیوں اور دیگر خلاف ورزیوں میں ملوث اداروں سے جن میں فوج، آئی ایس آئی، آئی بی، ایف سی اور پولیس شامل ہیں،براہِ راست رابطہ کر کے ان اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کرے اور یہ واضح کر دیا جائے کہ اغواء کے واقعات نہ رکنے کی صورت میں ان ایجنسیوں کو پابندیوں یا تعلقات کے خاتمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دریں اثناء امورِ خارجہ کی کمیٹی میں بلوچستان کی سماعت پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان وِکٹوریہ نیولینڈ نے کہا کہ اِن کمیٹیوں کی رائے، امریکی حکومت کی پالیسی کی ترجمانی نہیں کرتی۔

ان کے بقول امریکہ بلوچستان کی خودمختاری کا حامی نہیں اور وہاں کے مسائل، پاکستان کے اندر ہی پرامن سیاسی عمل کے ذریعے حل ہونے چاہیئیں۔

ترجمان نے کہا کہ ’کانگریس بہت سے خارجی امور پر سماعت کا اہتمام کرتی رہتی ہے اور ایسی سماعتوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امریکی حکومت کسی ایک موقف کی حامی ہے یا اس کی توثیق کرتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ امریکی محکمۂ خارجہ نہ تو اس سماعت میں شریک ہے اور نہ ہی اس کا حصہ ہے۔

اس سوال پر کہ کیا یہ سمجھا جائے کہ امریکہ بلوچستان کی آزادی کے مطالبے کا حامی نہیں، وکٹوریہ نولینڈ نے کہا کہ ’اس معاملے پر ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ بلوچستان کے بارے میں ہمارا موقف کیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت بلوچستان کی تمام جماعتوں پر زور دیتی ہے کہ وہ (پاکستان میں رہتے ہوئے) اپنے اختلافات کا پرامن اور قابلِ قبول سیاسی طریقے سے حل نکالیں۔

اسی بارے میں