ویڈیو کے ذریعے منصور کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منصور اعجاز کے مطابق انہوں نے متنازع میمو حسین حقانی کے کہنے پر لکھا تھا

متنازع میمو کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اس قضیے کے اہم کردار امریکی شہری منصور اعجاز کا بیان ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے قلمبند کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی کمیشن نے اپنے مختصر حکم میں کہا ہے کہ متنازع میمو کے مرکزی کردار منصور اعجاز کا بیان بائیس فروری کو لندن سے ریکارڈ کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی کمیشن نے کیا۔

حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیشن کے سیکریٹری لندن جاکر منصور اعجاز سے شواہد بھی اکھٹے کریں گے۔

واضح رہے کہ کمیشن نے چوبیس جنوری کو منصور اعجاز کو نو فروری کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا آخری موقع دیا تھا لیکن وہ کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لیے پاکستان نہیں آئے حالانکہ اس کے لیے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن نے منصور اعجاز کو پاکستان کا ایک سال کا ویزہ بھی جاری کردیا تھا۔

منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ نے کمیشن سے استدعا کی تھی کہ ان کے موکل سکیورٹی کی وجوہات کے باعث پاکستان آ کر بیان قلمبند نہیں کروا سکتے لہذٰا ان کا بیان ملک سے باہر ریکارڈ کیا جائے۔

منصور اعجاز کے وکیل کا موقف رہا کہ پاکستان آمد پر ان کے موکل کی سکیورٹی کی ذمہ داری مکمل طور پر فوج کو سونپی جائے اور ان کے موکل کو وزارت داخلہ کے ماتحت اداروں پولیس، رینجرز یا فرنٹئیر کانسٹیبلری پر اعتماد نہیں۔

تاہم کمیشن منصور اعجاز کا ملک سے باہر بیان ریکارڈ کرنے کی درخواست منظور تو نہیں کی البتہ یہ کہا کہ ان کا بیان وڈیو کانفرنس کے ذریعے لندن سے ریکارڈ کیا جائے گا۔

اسی دوران جمعرات کو ہی اسلام آباد میں میمو کی تحقیقات کرنے والی پارلیمان کی سلامتی کی کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے سربراہ سنیٹر رضا ربانی کی صدارت میں ہوا۔

کمیٹی نے بھی منصور اعجاز کو 10 فروری کو ہی طلب کرر رکھا تھا لیکن منصور اعجاز اس کمیٹی کے سامنے بھی پیش نہیں ہوئے۔

اجلاس کے بعد کمیٹی کے سربراہ سنیٹر رضا ربانی نے صحافیوں کو بتایا کہ کمیٹی منصور اعجاز کا بیان ملک کے باہر ریکارڈ نہیں کرے گی بلکہ پارلیمنٹ میں ہی کرے گی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ منصور اعجاز کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے جاری کیے گیے نوٹسز کا بھی ابھی تک کمیٹی کو کوئی جواب نہیں ملا۔

منصور اعجاز کے وکیل پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ کمیٹی ایک غیر ملکی کو طلب کرنے کا اختیار نہیں رکھتی اور منصور اعجاز اس کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔

تیس دسمبر کو سپریم کورٹ نے متنازع میمو سے متعلق دائر درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا تھا۔

واضح رہے کہ میمو کا تنازعہ سامنے آنے کے بعد پاکستان کی حکومت نےاس کی تحقیقات کا کام پارلیمان کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو سونپی جس نے اکیس دسمبر سے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔

اسی بارے میں