’افغانستان سے لاشیں واپس منگوائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images

حکومتِ بلوچستان نے افغانستان سے ان دو پاکستانیوں کی لاشیں لانے کے لیے پاکستانی وزارتِ خارجہ کو مراسلہ بجھوایا ہے جنہیں افغان سرحدی فورسز نے پاکستانی حدود میں داخل ہو کر حراست میں لینے کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان اس سلسلے میں فوری طور پر افغان حکام سے رابطہ کریں۔

ہلاکتوں کا یہ واقعہ پاک افغان سرحد پر بادینی کے مقام پر جمعہ کو اس وقت پیش آیا تھا جب افغان سرحدی فورس کے اہلکار دوگاڑیوں میں ایک کلومیٹر تک پاکستانی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔

افغان فورسز نے پاکستانی حدود میں آتے ہی مقامی سرکردہ قبائلی رہنماء سعداللہ کاکڑ کے گھر پر چھاپہ مارا اور وہاں سے طالبان سے تعلق رکھنے کی بنا پر دو افراد عبداللہ اور سرور خان کو حراست میں لے لیا۔

بعدازاں ان دونوں افراد کوگولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا لیکن ابھی تک ان کی لاشیں ورثاء کے حوالے نہیں کی گئیں۔

واقعے پر مقتولین کے ورثاء نے شدید احتجاج کیا ہے اور حکومتِ پاکستان سے دونوں افراد کی لاشیں لانےاور آئندہ سرحد پر ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوئٹہ سے بی سی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق صوبائی وزارت داخلہ و قبائلی امور نے اتوار کو وفاقی وزارتِ خارجہ کو ایک تحریری مراسلہ بجھوایا جس میں وزارتِ خارجہ سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان دو پاکستانیوں عبیداللہ اور سرورخان کی لاشیں پاکستان لانے کے لیے افغان حکومت سے رابطہ کرئیں۔

بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی کے مطابق لاشیں لانے کے لیے پاک افغان سرحد بادینی پر آباد دونوں اطراف کے مقامی قبائل کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ جتنا جلد ممکن ہوسکے یہ لاشیں پاکستان لائی جا سکیں۔

نصیب اللہ بازئی نے کہا وہ اس سلسلے میں پیر کے روز کوئٹہ میں مقیم افغان کونسل جنرل سے بھی ملاقات کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی ژوب کے علاقے کاکڑ خراسان سے تین چرواہے غلطی سے افغان حدود میں داخل ہوئے تھے جس پر بعد میں افغان سرحدی فورسز نے فائرنگ کرکے تینوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحد کئی ہفتوں تک بند رہی تھی۔

اسی بارے میں