شرح سود بارہ فیصد پر برقرار، سٹیٹ بینک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لیے مالیاتی پالیسی کا اعلان کردیا ہے جس میں شرح سود بارہ فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کراچی میں گورنر سٹیٹ بینک یاسین انور کا کہنا ہے کہ معیشت کے لیے سب سے بڑا چیلنج مالی خسارہ پورا کرنا ہے۔

کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران حکومت نے مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے بینکوں سے چار سو چوالیس ارب روپے قرض لیا۔ صرف سٹیٹ بینک سے ایک سو ستانوے ارب کا قرضہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں خسارہ پانچ سو بتیس ارب روپے یا جی ڈی پی کا دو اعشاریہ پانچ فیصد ہے جس سے اندازہ ہے کہ خسارے کو حکومت کے ہدف یعنی جی ڈی پی کا چار اعشاریہ سات فیصد کے قریب رکھنا مشکل ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق توانائی کی مسلسل قلت، بد امنی اور غیر یقینی سیاسی صورتِ حال کی وجہ سے کاروباری طبقے کا اعتماد بحال نہیں ہو رہا۔

سٹیٹ بینک کے مطابق پہلی ششماہی میں آٹھ سو چالیس ارب کے محصولات جمع کیے گئے جو تقریباً ستائیس فیصد زیادہ ہیں مگر پھر بھی انیس سو باون ارب کےمحصولات کی وصولی کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ برقرار رہے گا کیونکہ آٹھ فروری تک ذخائر بارہ ارب ڈالر تک گر چکے ہیں اور رواں ششماہی میں آئی ایم ایف کو ایک سو دس کروڑ ڈالر کی قسط بھی ادا کرنی ہے۔

سٹیٹ بینک کے تجزیے کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان نہیں کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کی وجہ سے بڑھ رہی ہیںآ اس کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں ہونے والا تینتیس فیصد اضافہ بھی زرِ مبادلہ پر دباؤ ڈال رہا ہے اور روپے کی قدر بھی ڈالر کے مقابلے میں پانچ فیصد سے زائد گرچکی ہے۔

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران برآمدات میں تین سے پانچ فیصد کمی کا امکان ہے۔

بیرون ملک سے ترسیلاتِ زر اگر موجودہ شرح سے برقرار رہیں تو بیرونی کھاتوں کا خسارہ ساڑھے تین سے ساڑھے پانچ ارب ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

اگر حکومت کو امریکہ کی جانب سے اتحادی سپورٹ فنڈ کے اسی کروڑ ڈالرز مل جاتے ہیں اور موبائل فون کے تھری جی لائسنس کے اجراء کی مد میں تقریباَ پچاسی کروڑ ڈالرز تک کی آمدنی ہوجاتی ہے تو اس خسارے میں مزید کمی کا امکان ہے۔

سٹیٹ بینک نے کہا کہ مہنگائی میں کمی کی بنیادی وجہ طلب میں کمی ہے اور اس وقت افراطِ زر دس اعشاریہ ایک فیصد ہے مگر آئندہ چند ماہ میں بجلی گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے افراطِ زر گیارہ سے بارہ فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

یاسین انور نے کہا کہ رواں مالی سال میں پہلے ہی شرح سود میں دو سو بیس پوائنٹس کی کمی کی جاچکی ہے اس لیے فی الحال اسے اسی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مالی سال دو ہزار تیرہ کا ہدف نو فیصد اور دو ہزار چودہ کا آٹھ فیصد ہے جسے پورا کرنے کے لیے ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی شرح بڑھانے کی ضرورت ہے جس سے مالی خسارہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اسی بارے میں