بریگیڈئیر علی کے والد کو بیٹے کے قتل کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption بریگیڈئیر علی کا جرم صرف یہ ہے کہ اس نے دو مئی کے واقعات کے بارے میں کچھ سوالات اٹھائے تھے: والد بریگیڈئیر علی خان

شدت پسند تنظیم کے ساتھ روابط کے الزام میں کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے بری فوج کے افسر بریگیڈئیر علی خان کے والد نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو ’لاپتہ افراد‘ کی طرح قتل کر دیا جائے گا۔

سیکرٹری دفاع کے نام لکھے گئے خط میں صوبیدار ریٹائرڈ مہر خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ جس طرح گزشتہ چند روز کے دوران پاکستانی فوج کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی قید میں چار پاکستانی شہریوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں کہیں ان کے بیٹے کے ساتھ بھی یہی سلوک نہ کیا جائے۔

اڈیالہ جیل: ’افراد ہماری تحویل میں‘

بریگیڈئر علی گزشتہ برس چھ مئی سے پاکستانی فوج کی تحویل میں ہیں جہاں ان کے کالعدم تنظیم حزب التحریر سے مبینہ روابط کے باعث ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع ہونے والی ہے۔

بریگیڈئیر علی خان کے والد نے خط میں لکھا ہے کہ وہ لاہور کے شیخ زید ہسپتال میں بستر مرگ پر ہیں اور اپنے بیٹے سے ملنے کے متمنی ہیں۔

انہوں نے سیکرٹری دفاع سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے ان کے بیٹے کو فوج کی غیر قانونی حراست سے رہائی کا حکم جاری کریں۔

ریٹائرڈ صوبیدار مہر خان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کا جرم صرف یہ ہے کہ اس نے دو مئی کے واقعات کے بارے میں کچھ سوالات اٹھائے تھے جنہیں فوج کے جونئیر افسروں میں تو بہت پذیرائی ملی لیکن سینئر قیادت ان سے ناراض ہو گئی۔

صوبیدار مہر خان نے کہا کہ اس دن کے بعد سے ان کے بیٹے کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں انہیں دل کا دورہ بھی پڑ چکا ہے۔

’اس جرم کی اتنی بڑی سزا دی گئی ہے کہ میرے بیٹے کو جو دل کا مریض ہے اپنے اہل خانہ سے بھی صرف اس وقت ملنے دیا گیا جب اسے دل کا دورہ پڑا۔‘

بریگیڈئیر علی خان کے والد نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کو غیر قانونی طور پر سیالکوٹ منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ایسی اطلاعات ہیں کہ ان کا کورٹ مارشل کیا جائے گا۔

’بریگیڈئیر علی خان نے اپنے کیرئیر میں کبھی سیالکوٹ میں خدمات تک انجام نہیں دیں ایسے میں انہیں سیالکوٹ منتقل کرنا انہیں قانونی اور طبی سہولتوں سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔‘

انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ بریگیڈئیر علی خان فوج میں اکتیس سالہ خدمات انجام دینے کے بعد گزشتہ برس جولائی میں ریٹائر ہونے والے تھے لیکن ان کی ریٹائرمنٹ کو بھی غیر قانونی طور پر روک دیا گیا۔

صوبیدار ریٹائر مہر خان نے برگیڈئیر علی کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں