ایسا نہیں لگتا کہ عدالت سزا دے گی:گیلانی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم گیلانی پر تیرہ فروری کو سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی فردِ جرم عائد کی جائےگی

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ توہین عدالت کے مقدمے میں انہیں سزا ہوگی تاہم اگر ایسا ہوا تو ان کے مستعفی ہونے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جائے گی۔

انہوں نے یہ بات عرب ٹی وی چینل الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔

توہین عدالت کے مقدمے کے بارے میں پوچھے گئے اس سوال پر کہ صدر زر داری کے خلاف کے بدعنوانی کے مقدمات کھولنے سے انکار پر انہیں چھ ماہ کی قید کی سزا ہوسکتی ہے، وزیر اعظم نے کہا ’درحقیقت ہمیں مقدمے کے میرٹ پر بات کرنا ہوگی اور میں پہلے بھی عدالت کے روبرو پیش ہوا اور میرے وکیل باصلاحیت ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ جیسا آپ نے سوچا ہے ویسا ہوگا‘۔

اس سوال پر کہ اگر انہیں سزا ہوتی ہے تو وہ استعفیٰ دیں گے تو وزیراعظم گیلانی نے کہا ’یقیناً پھر استعفیٰ دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اگر مجھے سزا دی جاتی ہے تو میں پارلیمنٹ کا رکن ہی نہیں رہ سکتا ہوں‘۔

اس سوال پر کہ کیا اس مقدمے میں صدر کی حمایت کرنا درست ہے اور کیا وہ ان کی نظر میں صاف ہیں تو وزیر اعظم نے کہا ’صدر پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔ انھوں نے انتخاب لڑا ہے اور تمام اسمبلیوں نے ان کے حق میں ووٹ ڈالا اور اس وقت کسی طرح کا کوئی بھی اعتراض نہیں تھا‘۔

وزیراعظم گیلانی نے کہا صدر پر سیاسی بنیادوں پر الزامات لگائے گئے تھے اور ’جو بھی الزامات لگے۔انھوں نے عدالت میں مقدمات لڑے اور وہ بری ہوئے‘۔

اس سوال پر کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ عدالت میں یہ مقدمہ لڑ کر قربانی دے رہے ہیں یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہا، ’اس کا غلط مطلب لیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ صدر پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے۔ ان کو صرف پاکستان میں ہی حاصل نہیں بلکہ پوری دنیا میں استثنیٰ حاصل ہے‘۔

اس سوال پر کہ سوئس حکام کو منی لانڈرنگ کے مقدمات کھولنے کے لیے خط نہ لکھنا بھٹو کی وراثت بچانے کے بارے میں ہے تو پاکستان کے وزیراعظم نے کہا ’اگر وہ( صدر زرداری) بھٹو کی وراثت بچا رہے ہوتے تو میں پاکستان کا وزیراعظم نہیں ہوتا‘۔

انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کے فوج سے تعلقات اچھے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کے فوج سے تعلقات اچھے ہیں

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی کارروائی پر متضاد بیانات سے متعلق سوال پر وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ آئی ایس آئی اور سی آئی اے ساتھ کام کر رہے تھے اور انہوں نے تمام اہم اہداف کے خلاف مل کر کارروائیاں کی تھیں’اس لیے میرا یہ خیال تھا کہ اسامہ کے خلاف کارروائی مشترکہ تھی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ ایک یکطرفہ کارروائی تھی جو ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی بھی تھی‘۔

ڈرون حملوں پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے پاکستان سے ڈرون پروازوں کی اجازت نہیں دی اور ڈرون حملوں کا نقصان ان کے فائدے سے زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے قبائلی علاقوں میں پاکستان کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

اسی بارے میں