پنجاب اور بلوچستان، ’مدارس کو بیرونی امداد نہیں ملی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں صوبہ پنجاب، بلوچستان، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، اسلام آباد اور گلگت میں قائم مدارس کو کوئی بیرونی امداد نہیں ملی۔

یہ بات وزیر داخلہ نے سوموار کو ممبر قومی اسمبلی قدسیہ ارشد کے سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے کہی ہے۔

قدسیہ ارشد نے سوال پوچھا تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان میں دینی مدارس کو بیرون ممالک اور این جی اوز سے کتنی امداد ملی ہے۔

’مالی مدد کی بحالی سے کالعدم تنظیمیں متحرک‘

تحریری جواب میں وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ پنجاب، بلوچستان، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، اسلام آباد اور گلگت کی حکومتوں نے بتایا ہے کہ ان کے ہاں دینی مدارس میں سے کسی کو کوئی بیرونی امداد نہیں ملی۔

ان کے بقول حکومتِ سندھ نے کہا ہے کہ کچھ مدارس کے سربراہ سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات فنڈز اکٹھے کرنے جاتے رہے ہیں لیکن کس مدرسے کو کتنا فنڈ ملا اس کی تفصیل فراہم نہیں کی۔

وزیر داخلہ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے کہا ہے کہ اس بارے میں کوئی قانون موجود نہیں ہے کہ مدارس سے پوچھا جا سکے۔ تاہم صوبائی حکومت نے بتایا ہے کہ پولیس کی سپیشل برانچ کے مطابق آٹھ دینی مدارس ایسے ہیں جنہیں کویت کی الفرغان نامی غیر سرکاری تنظیم مالی امداد دیتی ہے اور ناروے نے تین کروڑ چار لاکھ چھیاسٹھ ہزار روپے کی امداد فراہم کی ہے۔

رحمان ملک نے اسمبلی کو بتایا کہ بلوچستان میں گزشتہ چار برسوں میں پونے بارہ سو کے قریب لوگ قتل کیے گئے ہیں جبکہ سندہ میں گزشتہ دو برسوں میں ٹارگٹ کلنگ میں دو ہزار سے زائد لوگ مارے گئے۔

وقفہ سوالات کے دوران محمد ریاض ملک کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتایا کہ دو ہزار آٹھ سے سنہ دو ہزار گیارہ کے دوران بلوچستان میں گیارہ سو بہتر لوگوں کو قتل کیا گیا ہے۔

جس میں ان کے مطابق ایک سو اکانوے پولیس اہلکار، ایک سو ننانوے فرنٹیئر کور کے اہلکار، دو سو چھیالیس آبادکار (بلوچستان میں آباد غیر بلوچ جس میں بڑی تعداد پنجابی اور سندھی بولنے والوں کی ہے) پندرہ اساتذہ، دو سو باون فرقہ وارانہ واقعات جبکہ دو سو انہتر دیگر لوگ مارے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ نے دیگر کی کیٹیگری کی وضاحت تو نہیں کی البتہ خیال ہے کہ یہ وہ کیٹیگری ہے جس میں بلوچ سیاسی کارکن شامل ہیں جنہیں اغوا کے بعد قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جاتی رہی ہیں۔

وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ صوبہ سندھ میں سنہ دو ہزار دس اور گیارہ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں دو ہزار بتیس لوگوں کو قتل کیا گیا۔ جس میں زیادہ تر لوگ کراچی میں ہی قتل کی گیے۔

اسی بارے میں