’جب تک صدر کو استثنیٰ ہے خط نہیں لکھیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں وزیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے واضح کیا ہے کہ جب تک صدر کو استثنیٰ حاصل ہے اس وقت تک سوئس حکام کو خط نہیں لکھا جائے گا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا ’آئین کے تحت صدر کو استثنیٰ حاصل ہے۔ جب تک صدر کو استثنیٰ حاصل ہے خط نہیں لکھا جاسکے گا۔ شہیدوں کی قبروں کا ٹرائل ہماری پالیسی میں نہیں ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی قبر کا ٹرائل ہم نہیں کرنے دیں گے اور نہ ہی کریں گے۔‘

وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ان خیالات کا اظہار سپریم کورٹ کی طرف سے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔

ایک صحافی کے اس سوال پر کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کبھی بھی عدالتی حکم نہیں مانیں گے تو وزیر اطلاعات نے کہا ’یہ آپ کی ذاتی رائے ہوگی میں اس سے اتفاق نہیں کرتی۔ یہ عدالت کا احترام ہے اور ان کے حکم کو مانتے ہوئے ہم یہاں آئے ہیں، آپ کی خواہشات پر فیصلے نہیں ہوتے۔‘

وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم گیلانی نے فرد جرم سے انکار کیا اور یہ ان کا حق بھی تھا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی پاکستان کے پہلے منتخب جمہوری وزیر اعظم ہیں جو دوسری مرتبہ عدالت میں حاضر ہوئے۔

’انہوں ( وزیر اعظم ) نے عدالت کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔ عدالت نے انہیں اپنے رُوبرو پیش ہونے کے لیے کہا اور وہ حاضر ہوئے۔ وہ عدالت اور عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے رہیں گے۔ یہ پیپلز پارٹی کی سیاست ہے کیوں کہ پاکستان کی پیپلز پارٹی نے عدلیہ کی بحالی اور ان اداروں کی مضبوطی کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اس ملک میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے آزاد عدلیہ کی کتنی اہمیت ہے۔‘

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات و نشریات قمر الزماں کائرہ نے وزیر اعظم پر فرد جرم عائد کرنے پر تبصرہ کرتے ہویے کہا کہ آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا افسوسناک دن ہے۔

قمر الزماں کائرہ نے سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’وزیر اعظم، وزیر اعظم ہیں اور انشااللہ رہیں گے لیکن آج ہم افسردہ دل کے ساتھ کھڑے ہیں، بڑی تکلیف دہ صورت حال میں کھڑے ہیں کہ پہلی بار وزیر اعظم پاکستان پر فرد جرم عائد کی گئی۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا افسوسناک دن ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’عدالت نے(سماعت کے لیے) جو تاریخ طے کی ہے اس پہ یقیناً ہم عدالت کے حکم کے مطابق پیش ہوں گے اور اپنا دفاع کریں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے وکیل اپنا مقدمہ بہتر طریقے سے پیش کریں گے اور وہ قصور وار نہیں ہیں اور عدالت میں بھی وہ یہی ثابت کریں گے۔‘

جمعے کو عرب ٹیلی ویژن الجزیرہ سے نشر ہونے والے انٹرویو میں سید یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ صدر زرداری کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنائے گیے تھے اور انہوں نے یہ مقدمات عدالت میں لڑے اور بری بھی ہوئے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’صدر زرداری کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں استثنیٰ حاصل ہے۔‘

سابق وزیر اعظم مقتول بے نظیر بھٹو اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کو دوبارہ کھلوانے کے لیے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا سامنا ہے۔

یہ مقدمات نوے کی دہائی میں میاں نواز شریف کے دور حکومت میں درج کرائے گئے تھے۔

اسی بارے میں