’فضائی راستے سے رسد کی فراہمی کی اجازت‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وزیرِ دفاع نے یہ نہیں بتایا کہ نیٹو کو یہ اجازت کب دی گئی

پاکستان کے وزیرِ دفاع احمد مختار کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے نیٹو کو فضائی راستے سے افغانستان رسد پہنچانے کی اجازت دی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وزیرِ دفاع نے یہ بات منگل کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں صحافیوں کو بتائی۔

اے پی کے مطابق وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ یہ اجازت مختصر مدت کے لیے دی گئی ہے اور اس دوران ایسی اشیاء افغانستان بھیجی جا سکیں گی جن کے جلد خراب ہونے کا خدشہ ہو۔

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ نیٹو کو یہ اجازت کب دی گئی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق وزارتِ دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو افواج کو صرف کھانے پینے کی اشیاء افغانستان پہنچانے کے لیے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ’ہم نے انہیں کہا ہے کہ وہ رسد فضائی راستے سے پہنچائیں اور فی الحال خوراک کے علاوہ اور کچھ نہ لائیں‘۔

پاکستان میں امریکہ کے سفیر کیمرون منٹر نے بھی گزشتہ ہفتے اس بات کی تصدیق کی تھی افغانستان میں نیٹو افواج کو پاکستان کے فضائی راستے سے رسد کی فراہمی جاری ہے۔

پاکستان نےگزشتہ برس چھبیس نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی ہیلی کاپٹرز کے حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے تیل اور دوسری رسد کی فراہمی روک دی تھی۔

پاکستان سے رسد کی فراہمی کا سلسلہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے اور پاکستان کے وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ یہ معاملہ پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کو بھیجا گیا ہے جس کی سفارشات پر پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بلایا جائے گا اور پارلیمان اس پر جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اس کے پابند ہوں گے۔

اسی بارے میں