بیسویں ترمیم: مفاہمت یا سیاسی لین دین

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

حکومت اور اپوزیشن نے اتفاق رائے سے آئین میں بیسویں ترمیم کا بل منظور کرلیا ہے جس سے پائیدار جمہوریت کا راستہ ہموار ہوگا اور سیاسی معاملات میں قدرے شفافیت بھی آئے گی۔

اس بات کا کریڈٹ پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو جاتا ہے لیکن قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان کو دیگر کی نسبت کچھ زیادہ کریڈٹ دینا پڑے گا کیونکہ انہوں نے الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے اور غیر جانبدار نگران حکومت کے قیام کی تجاویز پیش کیں اور حکومت سے منوائیں بھی ہیں۔

ابتداء میں تو حکومت صرف اٹھائیس اراکین پارلیمان و صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب کو قانونی تحفظ دینے کی خاطر یہ ترمیم متعارف کروا رہی تھی لیکن الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی تشکیل میں حکومت نے بھی بڑی قربانی دیتے ہوئے اپنے اختیارات اپوزیشن کے ساتھ ’شیئر‘ کیے۔

ویسے تو یہ بات محض اتفاق ہی ہے کہ قومی اسمبلی سے آئین میں بیسویں ترمیم کے بل کی منظوری ’ویلنٹائن ڈے‘ پر ہوئی اور بقول پیپلز پارٹی کے ایک رکن قومی اسمبلی کہ ’یہ جمہوریت کے لیے حکومت کا ویلنٹائن گفٹ ہے‘۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی والے ماحول میں جو سیاسی اتفاق رائے کا پیغام سامنے آیا ہے وہ حکومت کے لیے تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بعض تجزیہ کاروں کے بقول بیسویں ترمیم کی اتفاق رائے سے منظوری پارلیمان کی جانب سے غیر جمہوری قوتوں کو ایک ’شٹ اپ کال‘ بھی ہے۔

اب جب عام انتخابات کی باتیں ہونے لگی ہیں ایسے میں پاکستان کی دو بڑی روایتی حریف جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے جس طرح اتفاق رائے سے یہ ترمیم منظور کی ہے وہ ان جماعتوں کی سیاسی ’پختگی‘ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لیکن یہ بات شاید چند لوگوں کے علم میں ہوگی کہ بیسویں ترمیم کی منظوری اس وقت ہی ممکن ہو سکی جب مسلم لیگ (ن) نے حکومت سے پس پردہ ہونے والی ’بارگین‘ کے تحت لاہور میں واقع ’شیخ زید پوسٹ گریجوئٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ‘ کے مالکانہ حقوق وفاقی حکومت سے پنجاب حکومت کو دلوانے کا نوٹیفکیشن جاری کروایا۔

یہ نوٹیفکیشن چودہ فروری کو کابینہ ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری عمر حمید خان کے دستخط سے جاری ہوا ہے جس کی کاپی بی بی سی کے پاس موجود ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق شیخ زید ہسپتال اور کالج کی تمام املاک اور قرضہ جات اب پنجاب صوبے کے ذمے ہوں گی۔

اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد اصولی طور پر تو شیخ زید ہسپتال پنجاب حکومت کو منتقل ہونی تھی لیکن اس میں وفاقی حکومت نے تاخیر کی۔ اس معاملے پر وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت میں جھگڑا چلتا رہا اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں ’ڈرگز ریگولیٹری اتھارٹی‘ کا قیام ممکن نہیں ہوسکا۔

یہ بھی شاید پاکستان جیسے ملک میں ہی ممکن ہے کہ گزشتہ بائیس ماہ سے پاکستان میں ادویات سازی، ان کی رجسٹریشن، لائسنس اور انہیں ریگولیٹ کرنے کے لیے کوئی قانون ہے اور نہ ہی کوئی ادارہ! اٹھارویں ترمیم کے بعد جب محکمہ صحت صوبوں کو چلا گیا تو یہ طے پایا تھا کہ کچھ عرصے کے لیے تمام صوبے یہ اختیار مرکز کو دیں گے کہ وہ ’ڈرگز ریگولیشن اتھارٹی‘ قائم کرے اور معاملات سنبھالے۔

لیکن اس کے لیے تمام صوبوں کو اپنی صوبائی اسمبلیوں سے قرارداد منظور کرانی تھی تب جا کر وفاق قانون سازی کا مجاز ہوتا۔ پنجاب کے علاوہ تینوں صوبوں نے قرارداد منظور کرکے یہ اختیار مرکز کو دیا لیکن پنجاب نے شیخ زید ہسپتال کی منتقلی کی شرط عائد کردی۔

اب جب وفاقی حکومت نے ان کی شرط مان لی ہے تو پنجاب اسمبلی نے بدھ پندرہ فروری کو قرارداد منظور کرکے وفاقی حکومت کو ’ڈرگز ریگولیٹری اتھارٹی‘ قائم کرنے کا اختیار دے دیا۔

گزشتہ دنوں پنجاب میں جعلی ادویات کی وجہ سے ایک سو سے زائد شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں جب سینیٹ میں بحث ہوئی تھی تو اس دوران ان ہلاکتوں کی ایک اہم وجہ پاکستان میں ’ڈرگز ریگولیٹری اتھارٹی‘ کی عدم موجودگی کو قراردیا گیا تھا۔ پیپلز پارٹی والوں نے اس کا الزام پنجاب حکومت پر عائد کیا اور پنجاب حکومت نے ہلاکتوں کو وفاق کی سازش قرار دیا۔

پنجاب میں جعلی ادویات سے ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ پتہ نہیں اس میں ایک سو سے زائد معصوم لوگوں کی ہلاکت میں شیخ زید ہسپتال کے حقِ ملکیت کے تنازعے کا پہلو بھی شامل ہوگا کہ نہیں کیونکہ جس طرح سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) والوں نے ایک دوسرے پر الزامات لگائے ہیں، اگر وہ سچ ہیں تو ہلاکتوں کی ذمہ داری بھی دونوں جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔