’2013 میں مہاجرین کی واپسی کی کوشش ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد پاکستان میں ہے اور کوشش کی جائے گی آئندہ سال تک ان کی مکمل افغانستان واپسی کویقینی بنایا جائے۔

اس بات کا اعلان پاکستان میں سوئیڈن کےسفیر لارس وائڈے اور اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین (یواین ایچ سی آر) پاکستان کے سربراہ نیل رائٹ نے بدھ کو کو ئٹہ میں پریس کانفرنس میں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت سات اعشاریہ پانچ ملین مہاجرین آباد ہیں جن میں بڑی تعداد افغان مہاجرین کی ہے۔

’دیگر ممالک کے مقابلے میں اس وقت پاکستان میں مہاجرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اور پاکستان گذشتہ تیس سالوں سے افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کررہا ہے۔‘

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھجوانا چاہتی ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے مہاجرین کو جاری ہونے والے کارڈ کی مدت اس سال کے آخر تک ختم ہورہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں نیل رائٹ نے کہا کہ افغان مہاجرین کو کیمپوں تک محدود کرنے کی ذمہ داری حکومت پاکستان کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یواین ایچ سی آر نہ صرف مہاجرین روزہ مرہ امداد دے رہی ہے بلکہ حکومت اور مہاجرین کے درمیان پل کا کردار اداکررہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے حالات میں بہتری آرہی ہے اور توقع ہے کہ دو ہزار تیرہ تک افغانستان میں جاری ترقیاتی عمل کے نتیجے میں پاکستان میں آباد مہاجرین کے لیے روز گار کے زیادہ مواقع بھی میسر ہوں گے۔

اس موقع پر ایک سوال کے جواب سویڈن کے سفیر نے افغانستان میں مفاہمتی عمل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں قیام امن سے نہ صرف خطے کی اقتصادی ترقی میں اضافہ ہوگا بلکہ افغان مہاجرین کی واپسی کاعمل بھی تیز ہوجائے گا۔

اسی بارے میں