تین بیٹوں کا غم ناقابلِ برداشت، ماں چل بسی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption روہیفہ بی بی پیر کو اپنے دو بیٹوں سے ملاقات کے لیے سپریم کورٹ آئیں۔

ماں سے واقعی اپنے بچے کی تکلیف اور دکھ دیکھا نہیں جاتا۔ روہیفہ بی بی پیر کو اپنے دو بیٹوں سے ملاقات کے لیے سپریم کورٹ آئیں۔وہ اپنے بچوں کی حالت دیکھ نہیں سکیں، ان کا دل چھلنی ہوگیا، گھر واپس آئیں اور اللہ کو پیاری ہوگئیں۔

اپنے بچوں کے ساتھ ملاقات سے کچھ ہی دیر پہلے روہیفہ بی بی سے سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر ملاقات ہوئی۔

انھوں نے کالے رنگ کا برقعہ پہنا ہوا تھا۔ ان کا کرب، دکھ اور بے بسی ان کے چہرے سے عیاں تھی۔ روہیفہ بی بی نے جذباتی ہوکر کہا کہ ان کے بیٹے بےگناہ ہیں اور ان پر الزامات جھوٹے ہیں۔

’یہ سب جھوٹ ہے، اللہ کے آگے یہ بھی قسم کھائیں، قیامت والے دن ان کو چھوڑوں گی نہیں، پیروں پیغمروں پر بھی ایسی ہی گذری جیسے ہم پر گذرتی ہے، اللہ ان کو تباہ کرے گا۔میرا بیٹا صبور شہید ہوگیا، باسط اور ماجد بہت بیمار ہیں‘۔

پراسرار طور پر ہلاکت کے بعد سپردخاک

گزشتہ سال ستمبر میں اپنے بیٹوں سے حراست کے دوران ملاقات کو یاد کرتے ہویے بی بی نے کہا ’دو کی حالت خراب تھی اور ایک بالکل ٹھیک تھا اور اسی کو انھوں نے شہیدکردیا۔‘

تقریباً انیس ماہ پہلے اڈیالہ جیل سے لاپتہ ہونے والے سات افراد کو پیر کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ ان میں لاہور کی رہائشی روہیفہ بی بی کے دو بیٹے عبدالماجد اور عبدالباسط بھی تھے۔

روہیفہ بی بی کے تین بیٹے عبدالصبور، عبدالماجد اور عبدالباسط ان گیارہ افراد میں شامل تھے جنہیں مئی دو ہزار دس کو راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل سے سادہ کپٹروں میں ملبوس لوگ اٹھا کر لے گیے تھے۔

نومبر دو ہزار دس میں اٹارنی جنرل مولوی انوارلحق نے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں آئی ایس آئی اور ایم آئی کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گیے ایک تحریری جواب میں کہا تھا یہ افراد ان اداروں کی حراست میں نہیں ہیں۔ لیکن دو ہفتے بعد آئی ایس آئی اور ایم آئی کے وکیل راجہ ارشاد نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی نے ان گیارہ افراد کو ’دہشت گردوں کے کیمپوں سے گرفتار کیا اور ان سے دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور سازش کرنے کے بارے میں تفتیش کی جارہی ہے جس کے بعد ان پر آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔‘

ان میں سے چار افراد حراست کے دوران ہلاک ہوگئے جن میں روہیفہ بی بی کا بیٹا عبدالصبور بھی شامل تھا۔

آئی ایس آئی اور ایم آئی کے وکیل راجہ ارشاد نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ یہ افراد تشدد کی وجہ سے نہیں بلکہ طبعی موت مرے ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ میں پیش ہونے والے مظہر الحق نے کمرہ عدالت میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان افراد کو ’تشدد کرکے ہلاک کیا گیا‘ اور یہ کہ ان پر ’انسانیت سوز تشدد‘ کیا جاتا رہا ہے۔

پیر کو عدالت میں پیشی کے وقت سات میں سے تین افراد ایسے تھے جو کسی سہارے کے بغیر چل نہیں سکتے تھے ۔ ان میں سے چار افراد کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال سے لایا گیا تھا جہاں وہ جنوری کے آخر سے زیر علاج رہے ہیں۔ دیگر تین افراد کو پارہ چنارہ میں ’فوج کے حراستی مرکز‘ سے لایا گیا تھا۔

عدالت نے ان ساتوں افراد کو مقدمے کے فیصلے تک خبیر پختونحواہ کی حکومت کے سپرد کرتے ہوئے ان تمام افراد کو خوراک اور طبعی سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ ان کی اپنے عزیزوں سے بھی ملاقات کا انتظام کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ ساتوں افراد اب پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں عدالت کے حکم کے مطابق زیر علاج ہیں اور منگل کو ان کے رشتہ دار اسپتال کے باہر جمع ہوگئے اور ملاقات کے لیے اجازت کی انتظار میں ہیں۔

ایک قیدی شفیق الرحمان کے والد عزیز الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اپنے بچوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی اور ’ایسا شاید اس لیے کیا جارہا ہے کہ حکام یہ نہیں چاہتے کہ ہمیں معلوم ہو کہ ہمارے عزیزوں کو کس طرح سے اذیت دی گئی تھی۔‘

ان گیارہ افراد کو دو ہزار سات میں ملک کے مختلف حصوں سے اٹھایا گیا تھا اور کوئی آٹھ ماہ بعد انہیں پولیس کے حوالے کیا گیا۔

ان پر راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈ کواٹر اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں کی ایک بس پر حملےسمیت شدت پسندی کے مختلف واقعات کے الزامات میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت نے ان کو شواہد کی عدم موجودگی کی وجہ سے بری کردیا لیکن رہائی کے فوراً بعد وہ لاپتہ ہوگئے تھے۔

یہ افراد قصوروار ہیں یا بے گناہ اس کا فیصلہ تو عدالت کرے گی لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے خاندان جس مسلسل کرب سےگذر رہے ہیں اس کا ازالہ کیسے ہوگا۔

اسی بارے میں