احمدی نژاد، کرزئی کی پاکستانی رہنماؤں سے ملاقاتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سہ فریقی مذاکرات میں خطے کی مجموعی صورتِ حال، طالبان سے بات چیت اور دہشت گری کے خلاف جنگ جیسے موضوعات پر بات چیت ہو گی۔

پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان جمعہ کو ہونے والے سہ فریقی مذاکرات سے قبل ایران کے صدر محمود احمدی نژاد اور افغان صدر حامد کرزئی نے جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستانی صدر اور وزیرِ اعظم سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔

جمعہ کو ہونے والے سہ فریقی سربراہی مذاکرات میں خطے کی مجموعی صورتِ حال، طالبان سے بات چیت اور دہشت گری کے خلاف جنگ جیسے موضوعات کے علاوہ دیگر اہم امور پر بات چیت ہو گی۔

ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاوس سے جاری ہونے والے بیانات کے مطابق تینوں ممالک کے رہنماؤں نے علحیدہ علیحدہ ملاقاتوں میں علاقائی امن و استحکام، انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون اور اقتصادی شعبے میں دو طرفہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا جن پر کل باقاعدہ اجلاس میں بات چیت ہو گی۔

اس کے علاوہ مذاکرات میں منشیات اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے مشترکہ حکمت عملی مذاکرات کا اہم موضوع ہوگی۔

ایران اور پاکستانی قیادت کے درمیان ملاقاتوں میں گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے مخالفت کے باوجود پاکستان ایران کے ساتھ اس منصوبے پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ سنہ 2014 میں مکمل ہو جائے گا۔

ادھر افغانستان نے توقع ظاہر کی ہے کہ دہشت گردی روکنے کے لیے پاکستان افغانستان سے ہر طرح کا تعاون کرے گا۔

جمعہ کو ہونے والے سربراہی مذاکرات کے سلسلے میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی جمعرات کی صبح جبکہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد دوپہر کے بعد اسلام آباد پہنچے۔ دونوں صدور نے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں کے بعد صدر کرزئی اور وزیرِاعظم گیلانی کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے ہیں جن میں طالبان سے بات چیت سمیت دوطرفہ دلچسپی کے اہم امور زیرِ بحث آئے ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ افغان رہنما برہان الدین ربانی کے قتل کی تحقیقات کے لیے پاکستان افغان حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا۔

پاکستان کے وفد میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، وزیر دفاع چوہدری احمد مختار کے علاوہ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی شامل ہیں جبکہ افغان وزیر خارجہ اور وزیرِ دفاع سمیت دیگر وفاقی وزراء افغان وفد کا حصہ ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نے افغان صدر کو پاک افغان پیس کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی کے قتل کی تحقیقات میں تعاون کی یقین دہانی کروائی جس پر افغان صدر نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

خیال رہے افغان رہنما برہان الدین ربانی کی ہلاکت کا الزام افغانستان، پاکستان کے خفیہ اداروں پر عائد کرتا رہا ہے ۔

بیان کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ہونے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔

افغان صدر نے افغانستان کی سربراہی میں ہونے والی قیام امن کی کوششوں کی کامیابی میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا۔

خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوے افغان وفد میں شریک اطلاعات و نشریات کے ڈائریکٹر حکیم اشر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ’دہشت گرد پاکستان میں پناہ گاہوں میں قیام پذیر ہیں اور وہیں سے وہ افغانستان کے اندر بھی دہشت گرد حملے کرتے ہیں۔

’افغانستان کے سرحدی ممالک کے لیے بھی دہشت گردی اہم مسئلہ ہے کیونکہ یہ پورے خطے کا مسئلہ ہے اس لیے قیام امن کے لیے پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور مجھے امید ہے پاکستان اس سلسلے میں افغانستان کی مدد کرے گا کیونکہ اس میں پاکستان کا فائدہ بھی ہے۔‘

انہوں نے ایران کے کردار سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلام آباد میں ہم تینوں ملکوں کے اکھٹے ہونے کا مقصد خطے میں امن قائم کرنا اور ایک دوسرے کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات بڑھانا ہے اور ایران ہمارا اہم ہمسایہ ہے اس لیے وہ ہم سے دور نہیں ۔ایران میں دہشت گردی کا مسئلہ پاکستان اور افغانستان کی طرح کا تو نہیں ہے لیکن ایران ہم دونوں ملکوں کی معیشت کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔‘

Image caption امریکہ کی مخالفت کے باوجود پاکستان ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان اور ایران کے سربراہان کے درمیان غیر رسمی ملاقات کے بعد ایران اور پاکستان کے وفد کے درمیان بھی مذاکرات ہوئے ۔پاکستان وفد کی قیادت صدر آصف علی زرداری نے کی جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی محمود احمدی نژاد نے کی۔

ایوان صدر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق ایرانی صدر نے کہا کہ ایران پاکستان کی ہر شبعہ میں مدد کا خواہاں ہے۔

پاکستان کے صدر نے کہا کہ وہ ایران اور پاکستان کے درمیان بجلی اور گیس کے منصوبوں پر جلد عمل درآمد چاہتے ہیں۔

دونوں سربراہان نے پاکستان اور ایران کی سرحد پر حفاظتی اقدامات کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔

پاکستان ،افغانستان اور ایران کے درمیان سہ فریقی سربراہی اجلاس کا یہ تیسرا دور ہے۔ اس سے پہلے اس کی میزبانی تہران نے کی تھی جبکہ یہ پہلا موقع ہے کہ سہ فریقی سربراہی اجلاس پاکستان میں ہو رہا ہے ۔

افغان صدر حامد کرزئی نے اسلام آباد میں پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقات کی ہے۔

ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے ہیں جن میں طالبان سے بات چیت جیسے اہم امور زیرِ بحث آئے ہیں۔

خیال رہے کہ طالبان اب تک صدر کرزئی کی حکومت سے بات چیت سے انکار کرتے رہے ہیں اور وہ اسے ایک کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہیں۔

اِس سے پہلے ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر عالمی دباؤ کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان عبداباسط نے کہا کہ ’پاکستان سمجھتا ہے کہ ہر مسئلہ مذاکرات کی میز پر حل کرنا چاہیے اور تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داری نبھائیں تاہم ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جوہری توانائی کے پرامن استعمال کا حق سب کو ہے۔‘

اسی بارے میں