اپر دیر میں’خودکش حملہ‘، ایک ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images
Image caption زخمیوں کو ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف لشکر کے سربراہ پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں ان کا بیٹا ہلاک جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح ضلعی صدر مقام دیر خاص میں المنظر ہوٹل کے قریب دریا کے کنارے پیش آیا۔

دیر خاص پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ حیاگئی مقامی لشکر کے سربراہ ملک معتبر خان اپنے ساتھیوں سمیت اپنے گاؤں سے آرہے تھے کہ اس دوران ایک مبینہ خودکش حملہ آور نے ان کے قریب آ کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ حملے میں لشکر کے سربراہ کا بیٹا شیر عالم ہلاک جبکہ چار دیگر رضاکار زخمی ہوئے۔ تاہم ملک معتبر خان اور ایک اور رہنما شیر خان محفوظ رہے۔

زخمیوں کو ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جن میں تین کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔

تحریکِ طالبان مالاکنڈ ڈویژن کے ترجمان نے بی بی سی کو فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک معتبر خان ان کے نشانے پر رہیں گے۔

خیال رہے کہ دیر میں طالبان اور مقامی لشکروں کے مابین متعدد بار جھڑپیں ہو چکی ہیں جس میں دونوں جانب سے کئی افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں