’صحافتی اصولوں کو پامال نہ کیا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کا ضابطہ اخلاق بنایا جائے۔

بلوچستان نیوز پیپرز ایکشن کمیٹی نے ایک بیان میں جمہوری وطن پارٹی کی کارکنوں کی جانب سے ایکسپریس نیوز چینل اور اخبار کے دفتر میں گھس کر کارکنوں کا ہراساں اور دھمکیاں دینے کی عمل کی شدید مذمت کی ہے۔

بیان میں انہوں نے اسے آزادی صحافت کے خلاف عمل قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ ادارے کو تحفظ فراہم کرے ۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بلوچستان نیوز پیپر ایکشن کمیٹی کا اجلاس کوئٹہ پریس کلب میں ہوا جس میں بلوچستان یونین آف جرنلسٹس، ایڈیٹر کونسل، پریس کلب اور انجمن اخبار فروشاں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔

اجلاس میں گزشتہ رات ایکسپریس نیوز کے دفتر میں پیش آنے والے واقعے پر تفصیلی غور کیا گیا اور اس عمل پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک سیاسی پارٹی جو جمہوریت پر یقین رکھنے کی دعویدار ہے، اُس کا غیر جمہوری رویہ اختیار کرنا افسوسناک عمل ہے۔

ایکسپریس ٹی وی کے پروگرام کے فرنٹ لائن میں جو واقعہ پیش آیا اسے بنیاد بنا کر کوئٹہ بیورو میں درجنوں مسلح پارٹی کارکنوں کو بھیج کر اخباری کارکنوں کا ہراساں کرنا اور انہیں دھمکیاں دینا غیر جمہوری رویہ ہے۔ اگر انہیں اخبار یا چینل کے بارے میں کوئی شکایت ہے تو پارٹی کو صحافیوں کے متعلقہ تنظیموں سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔

اجلاس میں حکومت سے واقعے کا نوٹس لینے اور اخباری کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں ایکسپریس ٹی وی کے پروگرام فرنٹ لائن میں پیش آنے والے واقعے کی بھی مذمت کی گئی اور اس میں پروگرام کے اینکر کے رویے اور ریمارکس کی صحافتی اصولوں کے منافی عمل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اخلاقی اقدار اور صحافتی اصولوں کے خلاف عمل تھا جس میں غیر پارلیمانی اور غلیظ زبان استعمال کرنے کی اجازت دینے اور براہ راست دکھانے کی بھی مذمت کی گئی۔

اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بعض اینکر پرسن اپنے پروگراموں کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے پروگرام کے شرکاء سے صحافتی اصولوں کے منافی اور غیر اخلاقی باتیں نکلوانے کی کوششں کرتے ہیں۔

بیان میں الیکٹرونک میڈیا کی تنظیموں پر زور دیا گیا کہ وہ اس طر ح کے پروگراموں کا نوٹس لے اور اس سلسلے میں ضابطہ اخلاق بنا کر تمام اینکر پرسن کو اس ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کا پابند بنایا جائے۔

یاد رہے کہ کل رات مذکورہ ٹی وی چینل پرمسئلہ بلوچستان مذاکراہ ہورہا تھا تواچانک آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنماء بیرسٹر میمد علی سیف اور جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ طلال بگٹی کے درمیان تلخ کلامی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس کے بعد مذاکرے میں شریک بلوچستان سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراختر مینگل نے فون بند کردیا جبکہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سنیٹر حاجی لشکری رئیسانی احتجاجاً مذاکرے سے اٹھ گئے تھے۔

اسی بارے میں