سیلاب زدگان آج بھی اس آفت سے نمٹ رہے ہیں

رپورٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رپورٹ میں سیلاب کے چھ ماہ بعد سیلاب زدگان کے حال ککا جایزہ لیا گیا ہے

قومی اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے بعض علاقوں مییں گزشتہ سال آنے والے سیلاب کے باعث اب بھی لاکھوں سیلاب زدگان بےگھر اور بے روز گار ہیں جبکہ امدادی رقم کی کمی کی وجہ سے بحالی کی کوششوں کو سخت خطرہ لاحق ہے۔

پچیس سالہ نجمہ صوبہ سندھ کے ضلع بدین سے اپنے بچے چھوڑ کر دارالحکومت اسلام آباد اپنی مختصر سی کہانی بتانے آئیں ہیں۔ کھبی ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آتےہیں، تو کبھی جذبات میں اپنی بات دہراتیں ہیں۔

’ہر وقت خطرہ رہتا ہے کہ پتہ نہیں ہم کب مر جائیں۔ ہمارے قریب سیم نالہ ہے۔ وہ بھی کب ٹوٹ کر ہمیں ڈبو دے، یہ بھی ہم نہیں جانتے۔ زندگی داؤ پر لگی رہتی ہے‘۔

نجمہ کا خاندان ان آٹھ لاکھ سیلاب زدہ گھرانوں میں شامل ہے جن کا گھر گزشتہ سال اگست میں آنے والے سیلاب کی نظر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جو کچا مکان انہوں نے سالوں میں بنایا تھا، سیلاب اسے کچھ ہی منٹ میں بہا کر لے گیا۔ اس وقت ان کے شہر میں اب بھی گھٹنے تک پانی کھڑا ہے۔

’پانی تو بہت زیادہ ہے۔ پانی میں بیماریوں نے جنم لے لیا ہے، ہمارے بچے بیمار ہو رہے ہیں۔ ہم بیمار ہو گئے ہیں۔ پانی میں سانپ چل رہے ہیں۔‘

وہ اپنے شوہر کے ہمراہ، سولہ بین الاقوامی اور قومی امدادری تنظیموں کی منعقدہ تقریب میں شرکت کرنے آئیں ہیں۔

اس تقریب میں سنہ 2011 کے سیلاب کے چھ ماہ گزرنے پر ایک رپورٹ جاری کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام، اقوامِ متحدہ کے اداروں، امدادی تنظیموں، شہریوں اور متاثرہ برداریوں نے ہزاروں افراد کی جانیں بچائیں ہیں اور لاکھوں کو مدد فراہم کی مگر سیلاب زدہ علاقوں میں بحران اب بھی جاری ہے اور بچیس لاکھ افراد کو بنیادی ضروریات کی کمی کا سامنا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی امدادی تنظیم ’کنسرن ورلڈ وائڈ‘ کی پاکستان میں ڈائریکٹر اینی فے نے کہا کہ ’حکومت نے اس سیلاب میں اہم مواقع گنوا دیے۔ ایک یہ کہ تیاری ناکافی تھی اور آفت کی نوعیت کا تعین وقت پر نہیں کیا گیا تھا۔‘

غیر سرکاری تنظیم ’سٹرینگتھننگ پارٹسپٹوری آرگنائزیشن‘ کے سربراہ نصیر میمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی عدم توجہ کے باعث اقوامِ متحدہ کی تقریباً پینتیس کروڑ ڈالر کی اپیل میں سے آدھی رقم موصول ہوئی اور لاکھوں افراد، جن کی فصلیں، مال مویشی اور گھر بہہ گئے، ان کو اپنی زندگی از سرِ نو سے شروع کرنا ہوگی۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس سلسلے میں حکومت پر خاص تنقید کی۔

’بنیادی توجہ اور ذمہ داری تو بنتی تھی حکومتِ پاکستان کی۔ بین الاقوامی تنظیوں کو میں تیسرے نمبر پر رکھتا ہوں۔ حکومت والے آئے دن اپنے سیاسی مسائل میں اتنے الجھے رہتے ہیں کہ ان کو شہریوں کی کم ہی یاد آتی ہے۔ بدقستمی سے سیلاب کے متاثرین وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے ووٹ گنتی میں نہیں آتے، لہذا جو گزشتہ دو برس سے آپ دیکھ رہے ہیں وہی حال ہو گا۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال سیلاب کی وجہ سے بائیس لاکھ ایکڑ زیرِ کاشت زمین ضائع ہوگئی اور اندازوں کے مطابق، اس وقت، ایک میں سے چار کاشت کار نہ تو کھانے کی اشیا کاشت کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس بیج وغیرہ خریدنے کے پیسے ہیں۔

’جہاں سندھ میں بچوں میں غذائی کمی کی صورتِ حال قہط زدہ افریقی ممالک سے بھی بدترین ہے، حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیلاب کے چھ ماہ بعد کی رپورٹ اسلام آباد کے اس اجلاس میں پیش کی گئی

انہوں نے مزید کہا کے کچھ ماہ میں مون سون کا موسم آنے کو ہے مگر ابھی تک حکومت کی طرف سے اس موسم میں متوقع بارشوں کے لیے کوئی واضح تیاری نظر نہیں آرہی۔

رپورٹ میں حکومت اور بین الاقوامی امدادی اور فلاحی تنظیموں کو سفارشات بھی پیش کی گئیں، جن میں بروقت آفت سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنا، امداد کی بغیر تفریق کی فراہمی اور تینوں فریقین کو منظم طریقے سے ساتھ مل کر کام کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔

بین الاقوامی امدادی تنظیم آکسفیم کی پاکستان کی ڈارئکٹر نیوا خان نے کہا کہ آفات سے نمٹنے میں تمام فریقین کا ہاتھ ہوتا ہے۔

’ایک تو منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے رقم بھی۔ اور اس بات کو بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ ایک شحض یا ادارے کا کام نہیں ہے۔ شہریوں اور غیر سرکاری اداروں کو حکومت کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کرنا ہوگا۔ اس کوشش میں بین الاقوامی اور قومی فلاحی تنظیمیں، امدادی تنظیمیں، ذرائع ابلاغ اور دانشور برابر کے شریک ہیں۔ اس کے لیے وقت بھی دکار ہے اور یہ آسان نہیں ہے۔ مگر اکھٹا ہم مستقبل کے پاکستان کو بہتر بنا سکتے ہیں۔‘

تاہم، فی الحال، نجمہ کو اپنے بچوں کے لیے مستقبل ابھی تاریک ہی نظر آرہا ہے۔

’ہم کیسے زندہ ہیں، صرف ہم ہی جان سکتے ہیں۔ ہمارے نصیب میں ایک ہی وقت کی روٹی ہے۔ ابھی اپنے بچوں کے کھانے اور رہنے کے بارے میں سوچیں گے، پھر آگے دیکھیں گے‘۔

اس پروقار تقریب میں شرکت کرنے کے لیے نجمہ کو پھول پیش کیے گئے لیکن وہ آج یا کل واپس چلی جائیں گی، پہلے سے کھڑے سیلابی پانی اور مون سون کی نئی بارشوں سے نمٹنے کے لیے۔

اسی بارے میں