شمالی وزیرستان: ڈرون حملوں میں اکیس شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شمالی وزیرستان میں جمعرات کے روز دو ڈرون حملے کیے گئے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ دو امریکی ڈرون حملوں میں پندرہ غیر ملکیوں سمیت کم سے کم اکیس مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے پشاور میں بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کے روز دوپہر کے وقت تحصیل میرعلی کے جنوب میں تقریباً دس کلومیر دور خیسورہ کے مقام پر ایک امریکی طیارے سے دو پک آپ گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں کم سے کم پندرہ غیر ملکی شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے شدت پسند ازبک بتائے جاتے ہیں۔

ان کے مطابق جاسوس طیارے سے دو میزائل داغے گئے جس سے گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی اور جس کے نتیجے دونوں گاڑیاں مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہیں۔

ادھر اس واقعہ سے چند گھنٹے قبل جمعرات کی صبح ہی شمالی وزیرستان کے علاقے سپلگاہ میں بھی ایک امریکی جاسوس طیارے سے شدت پسندوں کے ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا جس میں چھ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

مقامی اہلکاروں کے مطابق ایک امریکی ڈرون طیارے سے دو میزائل داغے گئے جس سے مکان مکمل طورپر تباہ ہوگیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس مکان کو عسکریت پسند ایک مرکز کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق پنجابی طالبان اور حافظ گل بہادر گروپ سے بتایا تھا۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران کسی بھی ڈرون حملے میں غیر ملکیوں کی ہلاکت کا یہ بڑا واقعہ قرار دیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں