اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کمزور؟

نواز شریف اور آصف زرداری تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سیاسی قوتوں میں اتحاد نظر آنے لگا ہے

پاکستان کی سیاست کا مستقبل ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً نصف صدی کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے اور ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔

’لڑاؤ اور حکومت کرو‘ والا فارمولہ اب شاید اسٹیبلشمنٹ کے لیے کارآمد اور قابلِ عمل ثابت نہ ہو، کیونکہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے بہت کچھ کھونے کے بعد یہ محسوس کرلیا ہے کہ وہ آئندہ اسٹیبلشمنٹ کی پتلیاں نہیں بنیں گے۔

پاکستان کی سیاست میں گزشتہ تین دہائیوں کا اگر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایوان صدر، آرمی اور عدلیہ کا گٹھ جوڑ ہی ملک میں تبدیلی لاتا رہا، چاہے وہ سیاسی حکومت کے روپ میں ہو یا آمریت کے۔

لیکن اب کی بار جب سے آصف علی زرداری صدرِ پاکستان بنے ہیں تو اس تیس سالہ ’ٹرائکا‘ کی طاقت کا توازن ہی بگڑ گیا جس کی جھلک حالیہ متنازعہ میمو معاملے میں واضح طور پر نظر آئی اور موجودہ کمزور جمہوری حکومت نے جس طرح ’ریاست کے اندر ریاست‘ کی بات کر کے طاقتور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کو آنکھیں دکھائیں اس کی بھی ماضی میں نظیر کم ہی ملتی ہے۔

لیکن یہاں بڑا کریڈٹ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو بھی دینا پڑے گا جنہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو کندھا فراہم نہیں کیا۔ یقیناً حکومت کی اتحادی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومینٹ اور مسلم لیگ (ق) کے ساتھ ساتھ جمیعت علماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کا کردار بھی قابل تعریف نظر آتا ہے۔

جمیعت اور جماعت کے غیر متوقع اور حیران کن رویے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کو سخت صدمہ پہنچا اور شاید انہیں بعض کاالعدم جماعتوں کا سہارا لینا پڑا اور اچانک ملک میں ’دفاع پاکستان کونسل‘ نامی تنظیم کے بڑے بڑے جلسے دیکھنے کو ملے۔ اس کونسل میں ویسے تو مولانا سمیع الحق، شیخ رشید احمد، اعجاز الحق اور حمید گل بھی شامل ہیں جو کہ کاالعدم جماعتوں کے تو نہیں ہیں لیکن پاکستان کے سیاسی بازار میں جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ انہیں فوج کی پشت پناہی حاصل ہے۔

دفاعِ پاکستان کونسل کی اہم قوتوں میں فرقاوارانہ فسادات میں ملوث ہونے کی بنا پر کاالعدم قرار پانے والی سپاہ صحابہ اپنے نئے نام ’تنظیم اہلِ سنت والجماعت‘ اور جہادی سرگرمیوں اور بھارت میں پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے پابندی عائد کردہ لشکرِ طیبہ اپنے نئے نام ’جماعت الدعوۃ‘ اور مولانا سمیع الحق کی جمیعت علماء اسلام شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دفاعِ پاکستان ریلی

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہوگی کہ تبدیلی کے نام پر عمران خان، دفاعِ پاکستان کونسل، ’آرمی فرینڈلی فیملیز‘ یا ’اے ایف ایف‘ آفتاب شیرپاؤ، محمود خان اچکزئی اور دیگر ہم خیالوں کو ساتھ ملا کر حکومت بنائیں۔ لیکن کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ’دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال ہی اچھا ہے‘۔

اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی کے جب سے منور حسن امیر بنے ہیں تو ان کی جماعت اسٹیبلشمنٹ سے ’نئے رولز آف دی گیم‘ کا مطالبہ کر رہی ہے۔منور حسن نے دفاعِ پاکستان کونسل کے کراچی کے جلسہ میں شرکت تو کی لیکن ان کی جماعت کی حاضری خانہ پوری سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار پر دفاعِ پاکستان کونسل جماعت اسلامی کی بظاہر حمایت کے باوجود بھی اتنا بڑا جلسہ نہیں کرسکی جتنا اکیلے مولانا فضل الرحمٰن نے کیا۔

مولانا فضل الرحمٰن جو حکومت سے علیحدگی کے باوجود آج بھی ’منسٹرز کالونی‘ میں مقیم ہیں، ان کا صدر آصف علی زرداری سے پرانا یارانہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ انہوں نے جس طرح کھلے عام اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں سے بظاہر بغاوت کی ہے وہ بھی ان کے لیے ایک بڑا دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔

خیر یہ تو اب کی صورتحال ہے لیکن کل کیا ہوتا ہے یہ تو کسی کو معلوم نہیں۔ اگر جمیعت اور جماعت کو دیرینہ تعلقات کے باوجود اسٹیبلشمینٹ ساتھ نہیں رکھ پائی تو موجودہ حالات میں ان کا گھیرا تنگ ہوتا جائے گا۔ کیونکہ اب جہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کھلم کھلا سیاست سے اسٹیبلشمینٹ کا کردار ختم کرنے کی باتیں کر رہے ہیں وہاں عدالتی محاذ پر بھی شاید اسٹیبلشمنٹ کو ماضی کی طرح کا ’فرینڈلی‘ ماحول نہ مل سکے۔

اگر مستقبل میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا سیاست سے اسٹیبلشمینٹ کا کردار ختم کرنے کے معاملے پر تعاون جاری رہا تو وہ دن دور نہیں کہ پاکستان میں پارلیمان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر بالادستی قائم ہوجائے۔

اسی بارے میں