پارا چنار دھماکہ، ہلاکتیں اکتیس ہوگئیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ گورمی بازار میں سڑک کے کنارے واقع موبائل مارکیٹ میں ہوا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو پاراچنار بازار میں ہونے والے بم دھماکے اور اس کے بعد ہونے والے احتجاج پر فائرنگ سے ہلاکتوں کی تعداد اکتیس ہو گئی ہے۔

انجمنِ حسینیہ کے ترجمان حاجی حامد حسین نے بتایا کہ پشاور بھیجے گئے چھ زخمیوں میں سے دو افراد سنیچر کی صبح انتقال کر گئے اور ان کی لاشیں واپس بھیجی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک انتیس افراد کی تدفین مکمل ہو چکی ہے۔

اس سے پہلے کرم ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی ساجد حسین توری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ دھماکہ جمعہ کو دوپہر کے وقت صدر مقام پارہ چنار کے تجارتی مرکز کرمے بازار میں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا اور اِس دوران سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مزید ہلاکتیں ہوئیں۔ احتجاج کرنے والوں میں سے ایک شخص ٹینک سے کچل کر ہلاک ہوا۔

ساجد حسین توری نے کہا کہ دھماکہ ایسے وقت ہوا جب وہاں قریب ہی واقع امام بارگاہ سے لوگ نماز پڑھ کر باہر آ رہے تھے۔

ان کے بقول ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ایک مبینہ خودکش حملہ تھا اور بظاہر حملہ آور کا نشانہ امام بارگاہ تھی تاہم وہ وہاں تک پہچنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

خیال رہے کہ کرم ایجنسی میں تین چار سال سے حالات کشیدہ ہیں تاہم امن معاہدے کے بعد مرکزی سڑکیں تین سال کے بعد عام ٹریفک کے لیے کھول دی گئی تھیں جس سے علاقے میں حالات معمول پر آ ر ہے تھے۔

اسی بارے میں