سینیٹ الیکشن:کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال

پاکستانی پارلیمنٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سینیٹ کے دو مارچ کو طے شدہ انتخابات کے لیے جمع کروائے گئے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کا سلسلہ جاری ہے اور یہ عمل جمعہ کی شام تک مکمل ہوگا۔

ان انتخابات کے لیے صوبہ پنجاب سے پیپلز پارٹی کے بیرسٹر اعتزاز احسن اور مسلم لیگ نون کے اسحاق ڈار سمیت تمام امیدواروں کے خلاف کوئی امیدوار فی الحال میدان میں نہیں رہا اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی کوشش ہے کہ ان کے امیدوار بلامقابلہ ہی کامیاب ہوجائیں۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق پاکستان بھر میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا سلسلہ جاری ہے جو جمعہ کی شام چار بجے تک جاری رہے گا۔ پاکستان کے چاروں صوبوں سے بارہ بارہ نشستوں کے لیے انتخابات ہونا ہیں۔

صوبہ پنجاب سے سینیٹ کی بارہ نشستوں کے لیے اس وقت بارہ امیدوار ہی میدان میں رہ گئے ہیں۔ان میں مسلم لیگ نون کے سات، پیپلز پارٹی کے چار اور مسلم لیگ قاف کا ایک امیدوار شامل ہے۔

مسلم لیگ نون کے اسحاق ڈار ذوالفقار کھوسہ اور پیپلز پارٹی کے بیرسٹر اعتزاز احسن ،بابر اعوان اور مسلم لیگ قاف کے کامل علی آغا ان بارہ امیدواروں میں شامل ہیں۔

مبصرین کے مطابق چونکہ ان امیدواروں کے خلاف کوئی دوسرا امیدوار نہیں رہا اس لیے قوی امکان ہے کہ وہ بلامقابلہ منتخب ہوجائیں گے۔

صوبہ سندھ میں سینیٹ کی بارہ نشستوں کے لیے کل بتیس امیدوارں میں سے صرف دو کے کاغذات مسترد ہوئےا ور کہا یہ جا رہا ہےکہ سندھ میں سینیٹروں کے انتخابات کے لیے اب جوڑ توڑ ہوگا۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں اٹھارہ اورصوبہ بلوچستان میں بیس اراکین کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے ہیں۔

اسلام آباد سے سینیٹ کی دو نشستوں کے لیے چار امیدواروں نے کا غذات جمع کروائے تھے جن میں مسلم لیگ قاف کے مشاہد حسین سید اور پیپلز پارٹی کے عثمان سیف اللہ کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کر لیے گئے جبکہ مسلم لیگ نون کے دونوں امیدواروں کو کاغذات پر اعتراضات دور کرنے کے لیے وقت دے دیاگیا ہے۔

ملک بھر میں سینٹ کے انتخابات کے لیے امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہونے کے بعد چوبیس فروری کو حتمی فہرست جاری ہوگی اور دو مارچ کو سینیٹ کے انتخابات عمل میں آئیں گے۔

اسی بارے میں