بینظیر قتل:سندھ اسمبلی کو رپورٹ کا انتظار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کا منصوبہ کیسے بنایا گیا اور اس پر کیسے عملدرآمد ہوا؟ سندھ اسمبلی کے ارکان اور عام لوگ یہ جاننے سے ایک بار پھر محروم رہے۔

صوبائی اسمبلی نے چند روز قبل ایک قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ عام کی جائے۔ جس کے بعد جمعہ کو صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سنیچر کو وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک ایوان میں ارکان کو بریفنگ دیں گے۔

روایت سے ہٹ کر سنیچر کو صوبائی اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا۔ ایوان میں ایک بڑی سکرین لگائی گئی اور ان تمام انتظامات کی نگرانی صوبائی وزیر مراد علی شاہ کے حوالے کی گئی تھی۔رات کو خاص طور پر وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب سے سندھی نیوز چینلز کو رحمان ملک کی بریفنگ کی لائیو کوریج دینے کی دعوت دی گئی تھی جو اپنے ساز و سامان اور ٹیموں کے ساتھ اسمبلی میں موجود تھے۔

صبح کو سندھ اسمبلی کی گھنٹیاں معمول کے مطابق بجتی رہی۔ اجلاس شروع ہوا مگر وزیر قانون، سینئر صوبائی وزیر اور وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نہ آئے جس کے بعد پریس گیلری اور ایوان میں رحمان ملک کی بریفنگ کے حوالے سے شک و شبہات جنم لینے لگے۔

گیلری سے ہی بعض صحافیوں نے صوبائی وزیر کو موبائل ٹیلیفون پر پیغامات بھیجنا شروع کر دیئے۔ ایسے ہی ایک پیغام کا صوبائی وزیر شازیہ مری نے جواب دیا اور بتایا کہ بریفنگ ملتوی ہوگئی ہے کیونکہ وفاقی وزیر ذاتی مصروفیات کے باعث کراچی نہیں پہنچ سکیں گے۔

راتوں رات صورتحال کیسے تبدیل ہوئی؟ پیپلز پارٹی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا خیال تھا کہ یہ رپورٹ پیش کرنے سے اداروں میں ٹکراؤ ہوسکتا ہے۔ انہیں صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے یقین دہانی کرائی کہ جہاں تک عدلیہ کا معاملہ ہے تو ایسا کچھ نہیں ہوگا کیونکہ یہ تحقیقاتی رپورٹ ہے اور سندھ اسمبلی منتخب نمائندوں کا ایوان ہے۔

رحمان ملک کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت اعلان کرچکی ہے کہ ایوان میں یہ رپورٹ پیش ہوگی۔ اگر یہ رپورٹ پیش نہ ہوئی تو سندھ میں پیپلز پارٹی کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے مگر یہ دلائل بے اثر ثابت ہوئے۔ معاملہ سنجیدہ ہونے کے بعد صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ معاملہ صدر تک پہنچایا جائے گا۔

صدر زرداری تک سندھ حکومت کی شکایت پہنچی یا نہیں مگر وہ ذاتی دورے پر دبئی روانہ ہوگئے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی سنیچر کو کراچی میں موجود تھے۔

اسمبلی کے اجلاس کے اختتام پر سپیکر نثار احمد کھوڑو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ رات کو ٹیلیفون آیا تھا کہ رحمان ملک مصروفیت کے باعث نہیں آسکتے اور اب دوسری تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

مسلم لیگ فنکشنل کی رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی کا کہنا ہے کہ ارکان اسمبلی کا انتظار کرتے رہے مگر بریفنگ نہیں دی گئی جس سے اور بھی شک و شبہات بڑہ جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بینظیر بھٹو کی تیسری برسی کے موقعے پر پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ میں یہ رپورٹ پیش کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد میں وفاقی وزیر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ رپورٹ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حوالے کردی گئی ہے۔ دو ہزار گیارہ میں بینظیر بھٹو کی چوتھی برسی کے موقعے پر بھی یہ رپورٹ منظر عام پر آنے کا امکان تھا مگر فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا۔