بلوچستان سب پہ حاوی

لاپتہ افراد کے رشتہ دار
Image caption لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کا احتجاج

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں مسخ شدہ لاشیں ملنے اور سیکورٹی فورسز پر حملوں کا ذکر تو کئی برسوں سے ہو رہاہے لیکن آج کل بلوچستان کا چرچا پاکستان کی پارلیمان، سیاسی اور صحافتی حلقوں میں کچھ زیادہ ہی ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ امریکی کانگریس میں ریپبلکن رکن ڈینا روہرباکر کی بلوچستان کو خودمختاری دینے کے بارے میں پیش کردہ قرارداد ہے۔ حکومت ہو یا حزب اختلاف یا پھر میڈیا، ہر جگہ امریکہ کی مذمت ہو رہی ہے۔ امریکی حکومت وضاحتیں کرتی پھر رہی ہے کہ ان کی حکومت کی یہ پالیسی نہیں ہے۔ لیکن اس عذر کو کوئی تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور پاکستان میں حکومت، حزب اختلاف، مذہبی جماعتیں اور میڈیا امریکی ایوان نمائندگاں کے رکن کی قرارداد کو پاکستان کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہیں۔

فوری طور پر امریکی کانگریس میں پیش کی گئی قرارداد کا مقصد تو پاکستان کو دبانے کی کوشش نظر آتا ہے۔ کیونکہ یہ اس روز پیش ہوئی جس روز ایران کے صدر پاکستان کے دورے پر تھے۔ بعض مبصرین کے مطابق امریکہ اپنے لیے بلوچستان میں سیاسی خیر خواہی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

لیکن بعض بلوچ قوم پرست کہتے ہیں کہ امریکہ نے جو حشر اپنے خیر خواہوں کا کیا ہے بلوچ اس سے با خبر ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جتنا شور پاکستان میں امریکہ کے خلاف مچایا جا رہا ہے اگر اس سے نصف دباؤ سیاسی جماعتیں اور میڈیا حکومت اور سیکورٹی فورسز پر ڈالتیں تو شاید بلوچستان میں مسخ شدہ لاشیں ملنے سلسلہ تھم جاتا اور صورتحال بہتر ہو جاتی۔

کیونکہ بلوچستان میں گزشتہ دو برسوں سے بھی کم عرصے میں بلوچ نیشنل وائیس نامی تنظیم کے مطابق اب تک چار سو کے قریب مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔ پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن، ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر عالمی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بلوچستان کے حالات کے بارے میں ماضی میں سخت تشویش ظاہر کرتی رہی ہیں لیکن حکومت نے اِتنی توجہ نہیں دی جتنی دی جانی چاہیے تھی۔

حکومت کے بلوچستان پر کم توجہ دینی کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک تو چائے کی پیالی میں اٹھنے والے آئے دن بحران سے نمٹنا اور دوسرا یہ کہ وہاں سیکورٹی فورسز کی مداخلت اتنی ہے کہ حکومت کے بھی شاید پر جلتے ہوں۔

لیکن اس کے باوجود بھی حکومت بلوچستان میں جو چار پانچ ہزار لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرنے، بلوچستان اسمبلی کے اراکین کو کروڑوں روپے کے فنڈز مہیا کرنے سمیت دیگر اقدامات کی بات کرتی ہے وہ تاحال ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔

بلوچ سیاسی رہنما اکثر یہ بات کرتے ہیں کہ انیس سو چون سے لے کر سنہ دو ہزار دو تک کبھی ڈیرہ بگٹی میں گیس کمپنیوں کے ملازمین پر کوئی گولی چلی اور نہ ہی گیس پائپ لائن اڑائی گئی۔

لیکن اس وقت کی بیورو کریسی نے نواب بگٹی کے مطالبات تسلیم نہ کرنے اور طاقت کے استعمال کے لیے پرویز مشرف کو اکسایا اور دو کروڑ بچانے کے لیے دو ہزار کروڑ کا نقصان برداشت کیا اور حالات بھی بگڑ گئے۔

کچھ بلوچ سیاسی رہنما یہ بھی کہتے ہیں کہ بہت سا پانی پلوں سے گزر چکا ہے اور بلوچستان کی مسلح جدوجہد کرنے والی چار بڑی تنظیموں کے سربراہ زیادہ تر نوجوان ہیں اور اب وہ اپنے سیاسی رہنماؤں کی بات بھی شاید نہ سنیں۔

لیکن بعض ایسے رہنما بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ حکومت اب بھی اگر لاپتہ لوگوں کو چھوڑ دے اور سیکورٹی فورسز کی نقل حمل کو محدود کرے اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ بند ہو تو شاید بات چیت کا ماحول بن سکتا ہے کیونکہ دنیا میں کہیں پر بھی ہر مسئلے کا حل گفتگو سے ہی نکلتا ہے اور نہ کہ طاقت کے استعمال سے۔

اسی بارے میں