’مشرف کی گرفتاری کیلیے انٹرپول سےکہیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حکومت پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں سابق فوجی صدر جنرل مشرف کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا جائے گا۔

یہ بات وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے منگل کے روز ارکان سندھ اسمبلی میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف پر بینظیر بھٹو کو وطن آنے اور انتخابات میں حصہ لینے پر دھمکانے کا الزام ہے۔

’پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کو واپس آنے اور انتخابات میں نہ لینے کا مشورہ دیا تھا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں سخت نتائج کا سامنا کرنے کی دھمکی دی تھی۔ دنیا گواہ ہے کہ وطن واپسی کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوا۔‘

یاد رہے کہ سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے بارے میں ارکان کو آگاہ کیا جائے۔

کراچی میں ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ رحمان ملک کے ساتھ بینظیر بھٹو قتل کیس کے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ طارق قریشی نے بھی بریفنگ دی۔ انہوں نے مختلف چارٹ اور ویڈیوز کے ذریعے طالبان کی کارروائیوں، نیٹ ورک اور منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کی کراچی آمد سے لے کر راولپنڈی میں ہلاکت تک ان پر حملے کی کوشش کی گئی مگر ملزمان کو کامیابی راولپنڈی میں ہوئی۔

’دو خودکش بمبار مدرسہ حقانیہ میں رکے۔ انہوں نے چھبیس دسمبر کو بھی حملے کا منصوبہ بنایا تھا مگر انہیں وقت پر فیوز نہیں مل سکے۔ اس کے علاوہ کچھ میزائل منگوائے گئے جو اکوڑہ خٹک کی دوسری طرف سے منگوائے گئے۔ بینظیر نے جب اسلام آباد سے حسن ابدال جانا تھا اس وقت انہوں نے فائر کیے لیکن ٹائمنگ آؤٹ ہونے کے باعث میزائل کسی اور جگہ جاگرے۔ اس کے بعد لاڑکانہ اور سکھر میں بھی کوشش ہوئی مگر پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کے متحرک ہونے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوئے۔‘

تفتیشی ٹیم نے بینظیر بھٹو کی آمد سے پہلے کی صورتحال کے بارے میں بتایا اور کہا کہ لال مسجد آپریشن ہوچکا تھا اور تحریک طالبان پاکستان بھی وجود میں آچکی تھی۔ اسی سال خودکش حملوں میں بہت اضافہ ہوا۔

رحمان ملک نے ارکان کو بتایا کہ بینظیر بھٹو پر حملے کی منصوبہ بندی جنوبی وزیرستان میں ہوئی۔

تفتیشی ٹیم کا کہنا تھا کہ شوکت عزیز اور چوہدری شجاعت حسین کو بطور سابق وزیر اعظم جو سکیورٹی فراہم کی گئی، وہ سکیورٹی دو بار وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہنے کے باوجود بینظیر بھٹو کو فراہم نہیں کی گئی تھی۔

رحمان ملک نے شکوہ کیا کہ افغان صدر حامد کرزئی نے خود بینظیر بھٹو کو بتایا تھا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے مگر انہوں نے اقوام متحدہ کے کمیشن کے روبرو بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کیا تھا۔ ’اسی طرح ایک مسلم ملک کے نمائندہ خصوصی پیغام لے کر آئے تھے کہ بینظیر کی زندگی خطرے میں ہے لیکن انہوں نے بھی بیان ریکارڈ نہیں کرایا۔ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کیا تھا۔

اراکین اسمبلی نے تفتیشی ٹیم اور رحمان ملک سے سوالات کیے جس میں انٹلیجینس بیورو کے سابق سربراہ اعجاز شاہ کے کردار کے بارے میں بھی دریافت کیا گیا۔ تفتیشی افسر طارق قریشی کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس بارے میں کسی قسم کے شواہد نہیں ہیں اور اس عرصے کی ٹیلیفون ریکارڈنگ بھی دستیاب نہیں ہے۔ بقول طارق قریشی کہ دنیا میں کسی بھی انٹلیجینس بیورو کے خلاف شواہد جمع نہیں کیے جاسکتے ۔

ارکان کے سوالات پر رحمان ملک کو بینظیر بھٹو کے ساتھ ان کی موجودگی اور حیثیت کی وضاحت کرنی پڑی۔ ’میں بینظیر بھٹو کے مفاہمتی عمل میں شریک تھا۔ میں مسلم لیگ نواز، متحدہ قومی موومنٹ اور جنرل پرویز مشرف سے بھی رابطے میں تھا۔ بینظیر بھٹو نے مجھے رابطہ افسر بنایا تھا۔ وطن واپسی کے وقت بینظیر نے مجھے یہ عمل جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔‘

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں اٹھارہ اکتوبر کی سکیورٹی جنرل احسان اور ستائیس دسمبر کے جلسے کی سکیورٹی کی ذمہ داری ناہید خان کے حوالے تھی۔

سندھ اسمبلی کے ارکان نے اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کو بینظیر بھٹو کی آمد کے موقع پر ہونے والے بم حملوں کی بھی تحقیقات اور اس کی پیش رفت سے آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ رحمان ملک نے یقین دہانی کرائی کہ اس حوالے سے وفاقی حکومت معاونت کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں