سیلاب متاثرین کے لیے چوالیس کروڑ ڈالر کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اقوامِ متحدہ اور حکومتِ پاکستان نے گذشتہ سال سیلاب سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کے لیے چوالیس کروڑ ڈالر کی مشترکہ اپیل کی ہے۔

حکام کے مطابق یہ رقم روز گار کی بحالی، جائے پناہ، خوراک، پانی اور صحت کی سہولیات اور کمیونٹی انفراسٹرکچر کی فراہمی کے لیے خرچ کی جائے گی۔

پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے رابط کار تیمو پکالا کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے عالمی برادری کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد قابلِ ستائش ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو کسی بھی ممکنہ سیلاب یا تباہی کے لیے بہتر طور پر تیار کرنے اور انھیں محفوظ بنانے کے لیے عالمی برداری کی امداد اہم ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں متاثرین کی ابتدائی مدد فراہم کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ اور حکومتِ پاکستان کی چھتیس کروڑ ڈالر کی مشترکہ اپیل میں سے اب تک صرف سینتالیس فیصد امداد حاصل ہوئی ہے۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ یہ امداد رواں سال مارچ تک متاثرین کی ابتدائی بحالی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے خرچ کی جانی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ، حکومتِ پاکستان اور ان کے شراکت داروں نے متاثرہ علاقوں میں اب تک تیس لاکھ افراد کو خوراک فراہم کی ہے جبکہ ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ افراد کو عارضی پناہ گاہیں، دس لاکھ سے زیادہ کو صاف پانی اور تیرہ لاکھ سے زیادہ متاثرین کو صحت کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور پاکستانی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور ان کی بحالی کے لیے فوری امداد کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں