کراچی: رنگ، نسل، فرقے کی بنیاد پر کتنے قتل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کمیشن نے لواحقین کو دو لاکھ روپے فی کس معاوضہ ادا کرنے کی سفارش کی ہے

کراچی میں گزشتہ سال ٹارگٹ کلنگ میں ہلاکتوں کا تعین کرنے کے لیے بنائے گئے کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ اس عرصے میں چار سو افراد کی سیاسی، نسلی اور فرقہ ورانہ بنیادوں پر ہلاکت ہوئی ہے۔

کمیشن کے مطابق ان ہلاکتوں میں متحدہ قومی موومنٹ کے ایک سو پینتیس، پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سو چار اور عوامی نیشنل پارٹی کے ایک سو گیارہ کارکن اور ہمدرد شامل تھے۔ کمیشن نے لواحقین کو دو لاکھ روپے فی کس معاوضہ ادا کرنے کی سفارش کی ہے۔

ٹارگٹ کلنگ و دہشتگردوں کی کارروائیوں سے متعلق کمیشن کے چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) زاہد قربان علوی نے وزیرِاعلیٰ سید قائم علی شاھ سے ملاقات کی اور انہیں ابتدائی رپورٹ پیش کی۔

وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ نے کمیشن کے سربراہ کو ہدایت کی یہ رپورٹ متاثرہ جماعتوں کو بھی فراہم کی جائے۔

سپریم کورٹ نے کراچی میں ہلاکتوں کے از خود نوٹس کی سماعت کے فیصلے میں سندھ حکومت کو ہدایت کی تھی کہ ایک کمیشن بنایا جائے جو اس بات کا تعین کرے کے ٹارگٹ کلنگ میں کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں تاکہ لواحقین کو معاوضے کی فراہمی کی جاسکے۔

ستائیس اکتوبر کو اس کمیشن کا قیام عمل میں آیا، جس نے متاثرہ جماعتوں سے تفصیلات اور ان کا موقف معلوم کیا اور سرکاری ریکارڈ سے بھی مدد حاصل کی گئی۔

کمیشن نے ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ نو سیاسی جماعتوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ میں ان کے چھ سو انہتر کارکنوں کی ہلاکت ہوئی ہے، جبکہ کمیشن نے چار سو کارکنوں کی ہلاکت کو تسلیم کیا ہے جن کا سرکاری ریکارڈ دستیاب تھا۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹ میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ انیس مقتولین ایسے بھی تھے جن کی ایک سے زائد جماعتیں دعویدار تھیں۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ قتل کی وارداتوں سے پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، مہاجر قومی موومنٹ، عوامی تحریک، کچھی رابطہ کمیٹی، جعفریہ الائنس، جماعت اسلامی اور سنی تحریک متاثر ہوئیں۔

کمیشن کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکمران پیپلز پارٹی نے ایک سو اکاون کارکنوں کے قتل کی رپورٹ پیش کی تھی جن میں سے ایک سو چار کی تصدیق ہوئی، عوامی تحریک نے چھتیس کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جن میں سے سرکاری ریکارڈ میں بارہ کی تصدیق ہوئی ہے۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ نے ایک سو اکاسی کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جن میں سے چھیالیس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ اسی طرح ایم کیو ایم حقیقی نے چھتیس کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جن میں سے چھ کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ جعفریہ الائنس نے تیس کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، جن میں سے چھبیس کی تصدیق ہوسکی ہے، عوامی نیشنل پارٹی نےایک سو بتیس کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جن میں سے اکیس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

اس کے علاوہ کچھی رابطہ کمٹی نے تینتالیس کارکنوں کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا تھا تاہم کمیشن نے چھبیس کی تصدیق کی۔

جماعت اسلامی واحد جماعت تھی جس نے انیس کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا اور سب کی تصدیق ہوئی۔ سنی تحریک نے پینتالیس کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جن میں سے چار کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

اسی بارے میں