مفت دوائی سے150 ہلاک ہوئے: پنجاب حکومت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ گزشتہ ماہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں دل کے مریضوں کو مفت ملنے والی ادویات سے ایک سو پچاس افراد ہلاک ہوئے۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشترعلی اوصاف نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینج کو بتایا کہ حکومت نے مضرِ صحت دوا کی نشاندہی کے بعد اسے ہسپتالوں اور مریضوں سے واپس لے کر تلف کیا اور مریضوں کو دوسری دوائی فراہم کی۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق لاہور میں گزشتہ مہینے دل کے مریضوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے سرکاری طور پر ملنے والی مفت دوائی کی گولی میں ملیریا کی دوا کی غیر معمولی زیادہ مقدار شامل تھی جو ہلاکت کا سبب بنی۔

حکومت نے ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ایم ایس اور ڈی ایم ایس کو معطل کیا تو نوجوان ڈاکٹروں نے ہڑتال کر دی جس سے ہزاروں غریب اور نادار مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک مریض ہلاک ہوگیا۔

عدالت نے نوجوان ڈاکٹروں کو کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن کی کوئی قانونی حثیت نہیں لیکن وہ خود بھی ہڑتال کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کام کرنے سے روکتے ہیں۔

ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اشتر اوصاف نے کہا کہ نوجوان ڈاکٹروں کی ہڑتال کے باعث جو ہلاکت ہوئی ہے حکومت اس پر کاروائی کرے گی۔

عدالت نے کہا آج تک ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نہیں بن سکی جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں دس روپے کی پرچی بنوا کر علاج کروانے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتر علی اوصاف نے سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ڈاکٹروں کو ملنے والی تنخواہ، مراعات سہولیات اور اوقات کار کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ ایک جیسے قواعد کا اطلاق پورے ملک میں کیا جاسکے۔

سپریم کورٹ نے سرکاری ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے چاروں صوبوں کے محکمہ صحت کے حکام سے تجاویز طلب کرلی ہیں۔یہ تجاویز مضر صحت ادویات کی وجہ سے لاہور میں سو سے زائد مریضوں کی ہلاکت پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران مانگی گئی ہیں۔

عدالت نے چاروں صوبوں کے سیکرٹری صحت اور وفاقی سیکرٹری کابینہ کو طلب کر لیا ہے۔اس کیس کی سماعت بارہ مارچ کو اسلام آباد میں ہو گی۔

سپریم کورٹ نے سرکاری ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے چاروں صوبوں کے محکمہ صحت کے حکام سے تجاویز طلب کرلی ہیں۔یہ تجاویز مضر صحت ادویات کی وجہ سے لاہور میں سو سے زائد مریضوں کی ہلاکت پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران مانگی گئی ہیں۔