فون اور پیغامات کے بعد میمو بھجوایا: منصور اعجاز

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی شہری منصور اعجاز کا کہنا ہے کہ سابق سفیر حسین حقانی کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو اور بلیک بیری پر پیغامات کے تبادلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اُنہوں نے امریکہ کی قومی سلامتی کے سابق مشیر جنرل جیمز جانز کو میمو بھیجا تھا۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو متنازع میمو کی تحقیقیات کرنے والے عدالتی کمیشن کو دیے گئے ویڈیو بیان میں کہی۔

اُنہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس کا مسودہ حسین حقانی کو بھجوایا گیا جس کو پڑھنے کے بعد حیسن حقانی کے کہنے پر اس میمو کے مسودے سے پیراگراف نمبر چھ ہذف کروا دیا جو القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کی بیواؤں سے تحقیقات سے متعلق تھا۔

منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ اس پیراگراف سے متعلق حسین حقانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ اگر حکومت بیڈ بوائز (منصور اعجاز کے بقول حسین حقانی کی مراد آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ ہیں) پر بااختیار ہو جائے تو پھر اس معاملے میں مذید پیش رفت ہوسکتی ہے۔

منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ حسین حقانی نے اُنہیں بتایا کہ اُنہیں (حیسن حقانی) اپنے باس یعنی صدر آصف علی زرداری کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اُن کے دو ذرائع یہ کہہ رہے ہیں کہ مائیک مولن اُس وقت تک اس مسودے کو قبول نہیں کریں گے جب تک اس کو لیٹر ہیڈ پر نہ لکھا جائے اور اس پر پاکستانی حکومت کی اعلیٰ شخصیت کے دستخط نہ ہوں۔

منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ جنرل جیمز جانز اس میمو کو مائیک مولن تک پہنچانے کو تیار تھے لیکن اس کے لیے ضروری تھا کہ اس ضمن میں پاکستانی حکومت کی اعلیٰ شخصیات کی منظوری بھی شامل ہو۔

اُنہوں نے کہا کہ حسین حقانی کی اجازت کے بعد اس میمو کو امریکی افواج کے سابق سربراہ مائیک مولن کو بھجوا دیا۔ تاہم منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جیمز جانز نے ای میل مائیک مولن کو بھیجی یا صرف میمو کا مسودہ بھیجا۔

منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ انہوں نے میمو دس مئی کو بھیجا اور جیمز جانز نے انہیں گیارہ مئی کو ای میل کی جس میں اس بات کی تصدیق کی کہ اس مسودے کو مائیک مولن تک پہنچا دیا گیا ہے۔

عدالت نے منصور اعجاز سے پوچھا کہ اُن کے اور حسین حقانی کے درمیان جن پیغامات کے تبادلے ہوئے تھے اُس کی متعقلہ کمپنی سے ریکارڈ بھی مل سکتا ہے، جس پر منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے کینیڈا کی کمپنی رم کے ساتھ رابطہ کیا تھا کہ ان پیغامات کا ریکارڈ دیا جائے تو اُنہیں بتایا گیا کہ نوے دنوں کے بعد بلیک بیری پیغامات کا ریکارڈ نہیں ملتا۔

منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ اُن کے وکلاء کی متعلقہ کمپنی سے آخری مرتبہ خط وکتابت اٹھارہ جنوری کو ہوئی تھی اُس کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

عدالتی کمیشن کا کہنا تھا کہ اگر ان پیغامات کا ریکارڈ نہیں ملتا تو اُن (منصور اعجاز) کے لیے مسئلہ ہوگا۔

عدالتی کمیشن کی کارروائی کے دوران منصور اعجاز اور حسین حقانی کے وکیل کے درمیان بعض تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ تاہم کمیشن کے سربراہ نے معاملے کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔

حسین حقانی کے وکیل نے منصور اعجاز کی طرف سے پیش کیے گئے الیکٹرانک شواہد کے قابل سماعت ہونے پر اعتراضات اُٹھائے اور اُن کا کہنا تھا کہ قانون شہادت آرڈر کے تحت یہ شواہد تسلیم نہیں کیے جاسکتے۔

منصور اعجاز جمعہ کے روز بھی اپنا بیان جاری رکھیں گے اور وہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں بتائیں گے۔

اس سے قبل لندن میں ہمارے نامہ نگار فراز ہاشمی نے بتایا کہ جمعرات کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اسلام آباد میں موجود کمیشن کو اپنا بیان قلمبند کرانے کے لیے منصور اعجاز صبح آٹھ بج کر چالیس منٹ پر لندن میں پاکستان کے سفارت خانے پہنچے۔

سفارت خانے کے باہر کھڑے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ٹیکسی سے اترنے کے بعد منصور اعجاز نے ’گڈ مارننگ جینٹلمین‘ کہا اور تیزی سے سفارت خانے میں داخل ہو گئے۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف جو اس مقدمے میں مدعی بھی ہیں ان کے وکلاء کی ٹیم اس سے قبل ہی سفارت خانے پہنچ گئی تھی۔

سفارت خانے کی عمارت میں داخل ہونے سے قبل نواز شریف کے وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ ’اگزیمینشن ان چیف‘ کا بیان قلمبند کیا جا رہا ہے اور امید ہے کہ آج مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد جرح کی جائے گی۔

اسی بارے میں