بلوچ رہنماؤں کے مقدمات ختم کرنے کا اعلان

پاکستان کے وزیرِداخلہ رحمٰن ملک نے بیرون ملک مقیم بلوچ سیاسی رہنماؤں پر قائم تمام مقدمات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان انہوں نے آغاز حقوقِ بلوچستان پیکیج پر عملدرآمد کے لیے بلائی گئی کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ بیرون ملک مقیم بلوچ بھائی واپس آئیں اور وہ خود ان کا خیر مقدم کریں گے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ فرنٹیئر کور کو کسی بھی علاقے میں آپریشن سے پہلے متعلقہ ضلع کے انتظامی سربراہ ’ڈی سی او‘ سے اجازت لینی ہوگی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ حکومت نے آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کا اعلان نومبر سنہ دو ہزار نو میں کیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد کے لیے خصوصی اجلاس جمعرات کو منعقد کیا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ حکومت پندرہ ہزار بلوچ گریجوئیٹ نوجوانوں کو انٹرن شپ دے گی اور ہر ماہ انہیں پندرہ ہزار وظیفہ ملے گا۔ انہوں نے اسلام آباد میں بلوچستان کے طلباء کی رہائش گاہ کے لیے ہاسٹل تعمیر کرنے کا بھی اعلان کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان ہائی کورٹ یا بلوچستان حکومت انہیں کہے تو وہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے بیرونِ ملک سے گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کرنے کو تیار ہیں۔

وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں بیرونی ہاتھ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت بلوچستان میں بجلی کے بلوں کے مد میں تین ارب روپے کی سبسڈی دے گی۔

یاد رہے کہ اکثر بلوچ سیاسی رہنما کہتے رہے ہیں کہ بلوچستان میں صوبائی حکومت دکھاوے کی ہے جبکہ اصل حکمرانی فرنٹیئر کور اور انٹیلی جنس حکام کی ہے۔

ان کے مطابق موجودہ دور میں بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کو اغواء کرکے قتل کرنے کے واقعات میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب بلوچ نیشنل نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار دس کی وسط سے اب تک چار سو بلوچ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔

بعض بلوچ قوم پرست رہنما الزام عائد کرتے ہیں کہ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز نے ’ڈیتھ سکواڈ‘ بنائے ہوئے ہیں تاہم سیکورٹی فورسز اس الزام کو مسترد کرتی رہی ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت نے بلوچستان کے متعلق کل جماعتی کانفرنس بلانے اور دیگر اقدامات کا اعلان اس وقت کیا جب امریکی کانگریس میں ایک ریپبلکن رکن نے آزاد بلوچستان کی حمایت میں قرارداد پیش کی ہے۔

اسی بارے میں