پنجاب پولیس کو عدالت کی مہلت

چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری تصویر کے کاپی رائٹ agency
Image caption چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں دو رکنی بنچ لاہور میں سماعت کر رہا ہے

پاکستان کے چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے مقدمات کا چالان بروقت عدالتوں میں پیش نہ کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پنجاب پولیس کو حکم دیا ہے کہ تمام زیر التواء مقدمات کے چالان کو تین دنوں میں متعلقہ عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم جمعرات کو مقدمات کا چالان وقت پر عدالتوں میں پیش نہ کرنے کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے دیا۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے استفسار پر آئی جی پنجاب پولیس حاجی حبیب الرحمان نے بتایا ہے کہ صوبہ پنجاب میں سینکڑوں ایسے مقدمے ہیں جن کا چالان ابھی تک عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں دو رکنی بنچ لاہور میں سماعت کر رہا ہے۔ آئی جی پنجاب پولیس حاجی حبیب الرحمان، آئی جی جیل میاں فاروق نذیر، ایڈیشنل آئی جی انوسٹی گیشن اسلم ترین اور ہوم سیکرٹری پنجاب شاہد خان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے آئی جی پولیس کو باور کرایا کہ ’ آپ نے ہماری کارکردگی صفر کر دی ہے۔ آپ تو آئی جی پنجاب ہیں سب کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرنی چاہیےْ۔

کارروائی کے دوران پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ تمام زیر التوا چالان ایک ہفتے کے اندر پیش کر دیے جائیں گے۔

سپریم کورٹ نے افسوس کا اظہار کیا کہ غلطیاں پولیس اور پراسکیوشن کرتی ہے اور بدنام عدالت ہوتی ہے۔

آئی جی پنجاب پولیس نے عدالت کو بتایا کہ تمام افسروں کو بروقت چالان پیش کرنے کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

اسی بارے میں