’امریکہ آزاد بلوچستان کا حامی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

امریکی کانگریس کی رولز کمیٹی کے چیئرمین ڈیوڈ ڈریئر نے کہا ہے کہ امریکہ آزاد بلوچستان کا حامی نہیں ہے بلکہ متحدہ پاکستان کی حمایت کرتا ہے۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک کے ساتھ ملاقات میں کہی۔ امریکی کانگریس کے اس چھ رکنی وفد نے وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی سے بھی علیحدہ ملاقات کی ہے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ امریکی وفد نے صاف طور پر کہا کہ ڈیموکریٹ ہوں یا ریپبلکن یا امریکی حکومت وہ ذیلی کمیٹی میں انفرادی طور پر پیش کردہ قرارداد کے خلاف ہیں۔ بیان کے مطابق امریکہ پاکستان کی سلامتی اور سرحدی سالمیت کا حامی ہے۔

کانگریس کے وفد نے وزیراعظم سے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک میں بھروسے کا جو فقدان ہے اُسے ختم کرنے میں دونوں جانب کے پارلیامینٹیرین اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب چیئرمین سینیٹ کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’بلوچستان کے بارے میں قرارداد کے متعلق ڈیوڈ ڈریئر نے کہا کہ مختلف معاملات پر وسیع تر خیالات پائے جاتے ہیں اور ذیلی کمیٹی کے چیئرمین کی یہ قرارداد امریکی حکومت یا کانگریس کے مؤقف کی نمائندگی نہیں ہے۔‘

بیان میں مسٹر ڈریئر کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ ’میں پاکستانی عوام اور حکومت کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ہم آزاد بلوچستان کے حامی نہیں ہیں اور صرف متحدہ پاکستان کے حامی ہیں۔ ہم مضبوط شہری حکومت کی حمایت کرتے ہیں اور پاکستان میں جمہوری عمل کے تسلسل کے حق میں ہیں۔‘

بیان کے مطابق امریکی وفد کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات غلط خبروں اور غلط فہمیوں کا شکار ہیں اور ہمیں یکجا ہوکر اپنے مضبوط سٹریٹجک اور کثیرالجہتی تعلقات کے لیے مکمل تعاون کرنا ہوگا۔

بیان میں بتایا گیا ہے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اعتماد کا فقدان دور کرنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کرنے ہوں گے اور اہم معاملات کے لیے کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس قائم کرنا ہوگی۔

بیان کے مطابق ملاقات میں انسدادِ دہشت گردی اور بارودی سرنگوں، سٹریٹیجک ڈائیلاگ، تجارت اور اقتصادی تعاون سمیت مختلف امور پر بات کی گئی۔

ادھر وزیراعظم کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ ملاقات میں سید یوسف رضا گیلانی نے کہا پاکستان امریکہ سے دو طرفہ مفاد اور احترام کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے۔

ان کے بقول فوجی حل مستقل نہیں ہوتا، اس لیے پاکستان نے افغانستان میں سیاسی عمل کی حمایت کی ہے تاکہ معاملات سیاسی طور پر حل ہوں۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے امریکی وفد کو افغان صدر کے حالیہ دورۂ پاکستان کے بارے میں اعتماد میں لیا۔

اسی بارے میں