خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صوبے میں قومی اسمبلی کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں میں چناؤ کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے

پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی دس نشستوں پر سنیچر کو ضمنی انتخابات ہورہے ہیں جن میں ایک سو چودہ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔

یہ دس نشستیں تحریک انصاف میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے مستعفی ہونے کے باعث خالی ہوئیں جن پر ضمنی انتخابات ہورہے ہیں۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے اس سلسلے میں نو سو اسّی پولنگ سٹیشنز قائم کیے ہیں جہاں ووٹرز چھ قومی اسمبلی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر امیدواروں کو منتخب کریں گے۔

قومی اسمبلی کی ایک نشست پر مردان میں جبکہ پانچ نشستوں پر پنجاب میں انتخابات ہوں گے۔ صوبۂ سندھ کی دو نشستوں پر جبکہ پنجاب کی بھی دو نشستوں پر ضمنی انتخابات کرائے جارہے ہیں۔

صوبۂ پنجاب

صوبے میں قومی اسمبلی کے پانچ اور صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں میں چناؤ کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کی وجہ سے ان انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ ان ضمنی انتخابات میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسٰی گیلانی بھی امیدوار ہیں۔

پنجاب کے سرحدی ضلع قصور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو چالیس کی نشست پیپلز پارٹی کے رہنماء سردار آصف علی احمد کے تحریک انصاف میں شامل ہونےسے خالی ہوئی ہے۔ اس حلقہ میں گزشتہ انتخابات میں سابق وزیر خارجہ سردار آصف علی کا مقابلہ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سے ہوا تھا تاہم خورشید قصوری بھی تحریک انصاف میں شامل ہوچکے ہیں اس لیے ان دونوں رہنماؤں کی ان ضمنی انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

اس حلقے سے سردار سرور ڈوگر پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں اور ان کا مقابلہ آزاد امیدوار ڈاکٹر عظیم الدین لکھنوی اور ملک رشید خان سے ہے۔ مسلم لیگ نون نے اس حلقے سے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔

جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان کے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو اڑتالیس سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی موسی گیلانی امیدوار ہیں۔ یہ قومی اسمبلی کی وہی نشست ہے جو پیپلز پارٹی کے سابق رہنماء اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مستعفیْ ہونے سے خالی ہوئی تھی۔ مسلم لیگ نون نے وزیر اعظم کے بیٹے کے مدمقابل عبدالغفار کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

ملتان سے ہی قومی اسمبلی حلقہ ایک سو اننچاس کی نشست مسلم لیگ نون کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی کے تحریک انصاف میں شمولیت کی وجہ سے خالی ہوئی ہے اور مسلم لیگ نون کے اس حلقہ سے شیخ طارق رشید کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے جن کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے امیدوار لیاقت علی ڈوگر سے ہے۔

جنوبی پنجاب کے ہی ضلع رحیم یار خان سے رکن قومی اسمبلی جہانگیر خان ترین اپنی جماعت مسلم لیگ قاف چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور ان کے مستعفیْ ہونے سے اب قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو پچانوے میں مسلم لیگ فکشنل پنجاب کے صدر اور رکن پنجاب اسمبلی مخدوم احمد محمود کے بیٹے سید مصطفیْ محمود امیدوار ہیں ان کا مقابلہ آزاد امیدواروں سے ہے۔

ضلع وہاڑی سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو اڑسٹھ کی نشست پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عظیم دولتانہ کے کار حادثے میں ان کی ہلاکت کی وجہ سے خالی ہوئی تھی اور اب اس نشست پر عظیم دولتانہ کی چھوٹی بہن نتاشا دولتانہ امیدوار ہیں اور ان کے مدمقابل مسلم لیگ نون کے امیدوار بلال اکبر بھٹی ہیں۔

پنجاب اسمبلی کی اٹک سے خالی ہونے والی نشست پر مسلم لیگ نون کے امیدوار ملک اعظم اور پیپلزپارٹی کے ملک ثمین خان کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ یہ نشست پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی ملک خرم خان کے تحریک انصاف میں شامل ہونے سے خالی ہوئی تھی۔

ضلع میانوالی سے پنجاب اسمبلی کے رکن اسمبلی اور مسلم لیگ نون کے رہنماء عامر حیات خان روکھڑی کے انتقال کے باعث صوبائی حلقہ چوالیس میں ضمنی انتخاب ہورہا ہے اور اس نشست پر عامر روکھڑی کے بیٹے عادل عبداللہ خان روکھڑی امیدوار ہیں۔ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار بہادر خان سے ہے۔

اسی بارے میں