’ٹیلیفونک گفتگو کا مستند ریکارڈ بھیجیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

متنازع میمو کی تحقیقیات کرنے والے عدالتی کمیشن نے امریکی شہری منصور اعجاز سے کہا ہے کہ وہ حسین حقانی کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کا مستند ریکارڈ کمیشن کو بھجوائیں۔

امریکی شہری منصور اعجاز نے جمعہ کو بھی متنازع میمو کی تحقیقیات کرنے والے عدالتی کمیشن کے سامنے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

پاکستان کے امریکہ میں سابق سفیر حسین حقانی کے وکیل نے متنازع میمو کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے طریقہ کار پر اعتراض کیا ہے۔

فون اور پیغامات کے بعد میمو بھجوایا: منصور اعجاز

حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے کمیشن کے طریقہ کار پر اعتراض جمعہ کو اٹھائے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ زاہد بخاری نے اعتراض اٹھایا کہ کمیشن کے سیکریٹری جو اس وقت لندن میں ہیں وہ صرف شواہد اکٹھے کرنے کے مجاز ہیں نہ کہ ان کے مستند ہونے کے۔

’کمیشن کے سیکریٹری نہ تو ہائی کورٹ کے جج ہیں اور نہ ہی کمیشن کہ وہ منصور اعجاز کی جانب سے فراہم کیے گئے دستاویزات کی جانچ پڑتال کریں۔‘

حسین حقانی کے وکیل نے کہا کہ کمیشن کا دائرہ کار اس میمو کے لکھے جانے، اس کے مستند ہونے اور اس کے مقصد کے بارے میں چھان بین کرنے سے متعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن لندن کے اخبار فنانشل ٹائمز میں لکھے جانے والے مضمون اور اس کے بعد کے حالات یعنی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور منصور اعجاز کے درمیان ملاقات کے بارے میں نہ تو منصور اعجاز بیان دے سکتے ہیں اور نہ ہی کمیشن تحقیقات کر سکتا ہے۔

تاہم منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ متنازع میمو کے حوالے سے تمام پٹیشنز مضمون لکھے جانے کے بعد ہی سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں اس لیے اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کو میمو سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔

اسی بارے میں