’مشرف کے ریڈ وارنٹ کے قانونی تقاضے مکمل‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اطلاعات ہیں کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف ان دنوں برطانیہ میں مقیم ہیں

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کا کہنا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے انٹرپول سے ریڈ وانٹ حاصل کرنے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کر لیے گئے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے پرویز مشرف کے جاری ہونے والے حتمی وارنٹ گرفتاری کے علاوہ اس مقدمے کا ریکارڈ اور ایف آئی اے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تفتیش بھی ریکارڈ میں شامل کی گئی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر انٹرپول نے اپنا خط بھی اس ریکارڈ میں شامل کیا ہے۔

چوہدری ذوالفقار کا کہنا تھا کہ تمام ریکارڈ وزارت داخلہ کو بھجوا دیا گیا ہے جہاں سے اسے ستائیس فروری کو انٹرپول کے ہیڈ کوراٹر بھجوا دیا جائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش میں ملوث ہیں اس لیے اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ملزم پرویز مشرف کی گرفتاری اور انہیں متعقلہ عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے۔

اطلاعات ہیں کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف ان دنوں برطانیہ میں مقیم ہیں اور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ملزمان کے تبادلوں کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔

بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش میں سابق ڈی آئی جی راولپنڈی سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم دونوں پولیس افسران آجکل ضمانت پر ہیں جبکہ سابق وزیر اعظم کے قتل کے مقدمے میں پانچ افراد اڈیالہ جیل میں ہیں جن پر فرد جُرم عائد کی جا چکی ہے۔

اسی بارے میں