’پاک افغان صحافیوں کا امن میں کردار‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبۂ خیبر پختون خوا کے گورنر بیرسٹر مسعود کوثر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں جاری دہشت گردی کا مسئلہ ان دو پڑوسی ممالک کا پیدا کردہ نہیں بلکہ باہر سے آنے والے افراد کی کارستانی ہے جس سے سرحد کے دونوں جانب عوام کئی قسم کے مشکلات کا شکار ہیں۔

وہ پیر کو میڈیا کے غیر ملکی ادارے میڈیو تھنک کے زیر اہتمام پشاور یونیورسٹی میں ’سرحد کے دونوں جانب امن کے قیام میں میڈیا کے کردار‘ کے عنوان سے منعقدہ دو روزہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

پشاور سے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق کانفرنس میں تیس سے زائد افغان صحافی خصوصی طورپر شرکت کررہے ہیں جبکہ بلوچستان، فاٹا اور خیبر پختون خوا کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے اخبارنویسوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔

گورنر نے کہا کہ پچھلے تیس برس سے اس خطے میں بیرونی مداخلت ہورہی ہے جس سے مجموعی طورپر یہ سارا علاقہ جنگ کی لپیٹ میں رہا جبکہ افغانستان میں بھی کشیدگی میں اضافہ ہوتا گیا۔

انہوں نے کہا ’اب وقت آگیا ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک آپس میں مل بیٹھ کر خود اپنے مسائل حل کرائیں کیونکہ ان کے مسائل کے حل کے لیے باہر سے کسی قوت نے نہیں آنا ہے۔‘

بیر سٹر مسعود کوثر نے صحافیوں پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام میں ان کا کردار نہایت کلیدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے گزشتہ پچیس تیس برس کے دوران ذرائع ابلاغ سے پاکستان اور افغانستان کے علاقوں اور عوام کی انتہائی غلط تصویر پیش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خطے کے امیج کو بہتر بنانے کے لیے اپنی کوششیں بروئے کار لائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کانفرنس کے دوران تصویروں کی ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا

کانفرنس میں شریک ایک سنئیر افغان صحافی عبدالمعید ہاشمی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے صحافیوں کے مسائل ایک جیسے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کے صحافیوں کو بھی جنگی کمانڈروں، شدت پسندوں اور حکومتی اداروں سے شدید خطرات لاحق ہیں جس سے کئی صحافی فرائض کے دوران ہلاک کئے جاچکے ہیں۔

کانفرنس میں افغانستان کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے تیس سے زائد افغان صحافی خصوصی طورپر شرکت کررہے ہیں۔ اس کانفرنس میں قبائلی علاقوں، خیبر پختون خوا اور پشاور کے اخبار نویسوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

کانفرنس کے پہلے روز دو سیشن ہوئے جس میں پروفیسروں اور صحافیوں نے پاکستان اور افغانستان میں صحافیوں کو درپیش مشکلات، میڈیا کے ذریعے سے جنگ کے خاتمے اور امن پھیلانے کی کوششوں پر اپنے مقالے پڑھے۔

کانفرنس کے دوران تصویروں کی ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں صحافیوں کے علاوہ طلباء و طالبات نے بھی شرکت کی۔

اسی بارے میں