نوشہرہ دھماکہ، پانچ ہلاک، پندرہ زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے عام کے بعد ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

عینی شاہد اور مقامی صحافی خالد نذیر نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر سڑک کے کنارے پر کھڑے ایک موٹر سائیکل پر ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ جونہی وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا امیر حیدر خان ہوتی جلسے کے بعد اپنے ساتھیوں سمیت ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر جہاز ہوا میں بلند ہوا ہے تو عین اس وقت ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ تاہم وزیراعلیٰ اور اے این پی کے دیگر تمام رہنماء اس حملے میں محفوظ رہے۔

صحافی نے مزید بتایا کہ جلسے سے وزیراعلیٰ کے علاوہ اے این پی کے صوبائی صدر سینٹیر افرسیاب خٹک اور صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بھی خطاب کیا۔

نوشہرہ کے پولیس افسر وصال خان کے مطابق دھماکے میں اب تک پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ پندرہ افراد زخمی ہیں جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو نوشہرہ اور پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جلسہ گاہ کی طرف جانے والے تمام راستوں پر پولیس کی سخت سکیورٹی تھی اور شاہد یہی وجہ ہے کہ حملہ آوار جلسہ گاہ تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول سے کیاگیا اور دھماکہ خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ تنظیم کے جنوبی وزیرستان کے ترجمان عاصم مسعود نے بی بی سی کو فون کرکے بتایا کہ اے این پی القاعدہ رہنما بدر منصور کی ہلاکت اور ڈورن حملوں کے ذمہ دار ہیں اسی وجہ سے ان کو نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ پچھلے چند ہفتوں سے پشاور اور اطراف کےعلاقوں میں بم اور خودکش حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس سے پہلے پشاور میں دو دنوں کے دوران تین حملے ہوئے تھے جس میں درجنوں عام شہری اور پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔