’اکبر بگٹی کے مطالبات پر سو فیصد عمل کردیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی نے جو پرویز مشرف کی حکومت کو مطالبات پیش کیے تھے، ان پر پیپلز پارٹی کی حکومت نے سو فیصد عملدرآمد کرلیا ہے۔

کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے رحمان ملک کا کہنا تھا کہ پوری قیادت کا یہ فیصلہ ہے کہ حکومت مذاکرات کرے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے بہن بھائیوں کے ساتھ جو ناانصافیاں ہوئی ہیں ان کا ازالہ کیا جاسکے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے جلاوطن بلوچ رہنماؤں براہمدغ بگٹی اور حریبار مری پر دائر مقدمات سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا، اس بارے میں پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’چیف سیکریٹری بلوچستان کو لیٹر جاچکا ہے، اس پر پہلے بھی عمل ہو رہا ہے اور جو اس پر عملدرآمد نہیں کرے گا اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔‘

’اگر کسی کا کوئی بھائی، بیٹا یا والد قتل ہوا ہے اور اس نے خود جاکر ایف آئی آر درج کرائی ہے تو حکومت اس مقدمے کو خارج نہیں کرسکتی باقی تمام مقدمات واپس لیے جائیں گے۔‘

رحمان ملک نے جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شاہ زین بگٹی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں محب وطن قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ ان کے دادا اکبر بگٹی نے جو مطالبات کی فہرست دی تھی جب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو اس کا علم ہوا اور اس کا موازنہ کیا تو پتہ چلا کہ جتنے بھی مطالبات اکبر بگٹی نے کیئے تھے وہ سارے کے سارے تسلیم ہوچکے ہیں ’اگر اور مطالبات سامنے آتے ہیں تو ان کو بھی تسلیم کیا جائے گا۔‘

وفاقی وزیر نے بلوچستان صورتحال پر مجوزہ کل جماعتی کانفرنس کے بارے میں کہا کہ اس حوالے سے ایک میٹنگ ہوچکی ہے، جس میں وزیر اعظم نے ہر کسی پر ایک ذمہ داری عائد کی ہے، حکومت ہر محاذ پر کام کر رہی ہے اور وہ بلوچستان جاکر لوگوں کو آغاز خوق بلوچستان پیکیج کی پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

رحمان ملک پیر کو دبئی سے کراچی پہنچے تھے، جہاں انہوں نے دبئی حکومت سے وہاں قید پاکستانیوں کو وطن لانے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

رحمان ملک کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں جو پاکستانی قید ہیں ان کے لواحقین ان سے ملاقات نہیں کرسکتے اور نہ انہیں ویزہ ملتا ہے یہ شکایت صدر آصف علی زرداری کے پاس پہنچی تھی، انہوں نے وزارات داخلہ کو ہدایت کی تھی کہ کچھ ایسا طریقہء کار بنائے جائے کہ لواحقین ملاقات کرسکیں۔

حکومت نے فیصلہ کیا کہ جو پاکستانی شہری دبئی میں قید ہیں انہیں اپنے ملک منتقل کیا جائے تاکہ وہ باقی سزا وہاں گذار سکیں، جس پر دبئی حکومت سے مذاکرات ہوئے اور آخر گزشتہ روز اس معاہدے پر دستخط کرلیے گئے ہیں۔

اس معاہدے کے مطابق وہ پاکستانی قیدی جنہیں وہاں سزا ہوئی وہ اپنے جیل سپرنٹیڈنٹ کو ایک درخواست دیں گے کہ وہ پاکستان جانا چاہتے ہیں اس کے بعد ایک پروفاما دبئی حکومت کے پاس جائے گا اور وہ پاکستان حکومت کو تصدیق کے لیے بھیجے گی اس تصدیق کے بعد پاکستانی قیدی کو یہاں منتقل کردیا جائے گا۔

سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کی مدد کے حوالے سے رحمان ملک کا کہنا تھا کہ عدالتیں جب حکم جاری کرتی ہیں تو عمل درآمد شروع ہوجاتا ہے وہ تصدیق کرسکتے ہیں ایف آئی اے ریڈ وارنٹ حاصل کرنے کے لیے انٹرپول سے رابطے میں ہے۔

اسی بارے میں