توہینِ عدالت کیس: نرگس سیٹھی بطورگواہ طلب

Image caption اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ بہتر طور پر جانتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنے موکل کا دفاع کس طرح کرنا ہے۔

وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہینِ عدالت کے مقدمے میں سپریم کورٹ نے کیبنیٹ ڈویژن کی سیکرٹری نرگس سیٹھی کو دفاع کی جانب سے گواہ کے طور پر طلب کر لیا ہے۔

انہیں وہ سمریاں بھی پیش کرنے کو کہا ہے جو این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کے لیے انہیں بھجوائی گئی تھیں۔ نرگس سیٹھی سات مارچ کو عدالت میں پیش ہوں گی۔

سپریم کورٹ نے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے وکیل سے کہا کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے توہین عدالت کی کارروائی سے متعلق تحریری جواب بھی عدالت میں جمع کروایا جائے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت شروع کی تو یوسف رضا گیلانی کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اُنہوں نے کہا کہ استغاثہ کی جانب سے کوئی بھی گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا تو وہ کس پر جرح کریں گے۔

جس پر بینچ کے سربراہ نے وزیر اعظم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے اپنے دفاع میں جن تین گواہوں کے نام پیش کیے ہیں اُن میں سے کن کن کو بُلانا چاہیں گے یا تینوں گواہوں پر جرح کرنا چاہیں گے۔

یاد رہے کہ اعتزاز احسن نے پیر کے روز ایک متفرق درخواست عدالت میں دائر کی گئی تھی جس میں سابق وفاقی وزیر قانون بابر اعوان،سیکرٹری مسعود چشتی اور کینٹ ڈویژن کی سیکرٹری نرگس سیٹھی کو بطور گواہ عدالت میں پیش کرنے کے استدعا کی گئی تھی۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ کا کہنا ہے کہ چونکہ ان افراد کے این آر او یعنی قومی مصالحتی آرڈیننس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے وزیر اعظم کو بھیجی گئی سمریوں پر دستخط ہیں اس لیے عدالت اُنہیں طلب کرے۔

اُنہوں نے کہا کہ بابر اعوان اور سیکرٹری قانون عدالت میں پیش ہونے سے گُریز کر رہے تھے جس پر بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر ان سرکاری دستاویزات کے مستند ہونے کے بارے میں بُلایا جانا مقصود ہے تو پھر اُنہیں بُلانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ ’این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا معاملہ سرکاری ہے اس لیے سرکاری ملازمین کو ہی بطور گواہ طلب کیا جائے۔‘

جس پر وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے مقدمے میں نہیں بلکہ توہین عدالت کے مقدمے میں پیش ہوئے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ بہتر طور پر جانتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنے موکل کا دفاع کس طرح کرنا ہے۔

عدالت نے کیبٹ ڈویژن کی سیکرٹری کو بطور گواہ طلب کیا ہے اور اُن پر استغاثہ کے وکیل بھی جرح کریں گے۔ اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق اس مقدمے میں استغاثہ کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اُنہیں یقین ہے کہ اُن کے موکل کو توہین عدالت کے مقدمے میں سزا نہیں ہوگی۔

اُنہوں نے کہا کہ بعض لوگ آج چاقو چھریاں تیز کرکے بیٹھے تھے کہ وزیر اعظم کو ہتھکڑیاں لگ جائیں گی اور صدر کے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا اور اُنہیں مایوسی ہوئی۔

اعتزاز احسن نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ اُنہیں حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے ایون بالا یعنی سینٹ کی ٹکٹ وزیر اعظم کا مقدمہ لڑنے کی فیس کے طور پر دی ہے۔

اسی بارے میں