بلوچستان: ہندو ڈاکٹر سمیت تین اغوا

ہندو خاندان
Image caption سندھ اور بلوچستان میں ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے

بلوچستان کے علاقے صحبت پور سے ہندو ڈاکٹرسمیت تین افراد اغوا کر لیےگئے ہیں۔ ان افراد کو اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ صحبت پورسے ایک وین میں جیکب آباد جارہے تھے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب نامعلوم مسلح افراد نے صحبت پور سے جیکب آباد جانے والی ایک وین کو روکا اور وین سے ہندو ڈاکٹرمورلی لال، ٹھکیدارسیٹھ ریجندرکمار اور کمپاؤڈر اقبال شیخ کو اتار کر اپنے ساتھ لیے گئے۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور واقعہ کی تحقیقات شروع کردی گئیں۔

ڈیرہ مراد جمالی سے مقامی صحافی دہنی بخش مگسی کے مطابق مورلی لال، ٹھیکدارسیٹھ ریجندر کمار اور کمپاؤڈر اقبال شیخ کے ہمراہ وین میں صحبت پور سے واپس جیکب آباد جارہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے صحبت پور اور ڈیرہ اللہ یار کے درمیانی علاقے تھانہ شہید ملک محمد علی کے حدود سے پہلے وین کو روکا اورمسافروں کولوٹنے کے بعد ان تینوں مسافروں کو گاڑی سے اتار کر اپنے ساتھ لیے گئے۔

یاد رہے کہ تین ماہ قبل بھی اسی علاقے سے قبائلی شخصیت اور سابق تحصیل نائب ناظم حاجی علی احمد کنرانی کو بھی نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا تھا جن کی رہائی کے لیے اغوا کاروں نے مغوی کے ورثا سے اسی لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا اور تین دن قبل پینتیس لاکھ روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد انہیں بازیاب کیا گیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز بھی کوئٹہ کے جناح روڈ سے نامعلوم افراد نے دو ہندو تاجروں کو اغوا کیا تھا لیکن تاحال پولیس اور سیکورٹی فورسز ان تاجروں کوبازیاب نہیں کرا سکی ہیں۔