دو عورتیں دو کہانیاں

شرمین عبید چنائے اور ان کے ڈائریکٹر ڈینیئل جنگ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شرمین طالبان اور خودکش بمباروں پر دستاویزی فلمیں بنا چکی ہیں

ستمبر دو ہزار ایک کی پہلی سہ ماہی میں آسکر ایوارڈز کی ہونیوالی تقریب میں آسکر لیتے وقت ہالی وڈ کے ایک ستارے نے ایوارڈ والا مجسمہ ہاتھ میں ہلاتے ہوئے کہا تھا: ’شکر ہے کہ یہ آسکر مجسمہ افغانستان میں نہیں وگرنہ طالبان اس کے ساتھ بھی بدھ کے مجسموں جیسا حشر کرتے۔‘

میں اسکے بعد کئی دفعہ لاس اینجلس شہر میں اس سن سیٹ بولیوارڈ سے گزرا جہاں حسن اور رنگ کا ایک جلوس چل رہا ہوتا ہے۔ اداسی، ناداری بھی ان رنگوں، روشنیوں کی بہتی نہر کے ساتھ ساتھ چپ چاپ سفر کر رہی ہوتی ہے۔

لیکن سن سیٹ بولیوارڈ کے قریب ہی جہاں یہ آسکر ایوارڈز ہوتے ہیں ایک ستاروں والی پٹی والے فرش پر کئی نام ہالی وڈ اور دنیا کے ستاروں کے لکھے ہوتے ہیں۔ میں نے کبھی یہ سوچا تھا کہ کبھی ایک نام میرے اصل وطن سے بھی ان ستاروں کے درمیاں چمکے۔

مجھے اس آسکر ایوراڈ یافتہ ستاروں کے فرش پر لکھے ہوئے نام دیکھ کر پتہ نہیں کیوں شکار پور کے ماضی کے مشہور خیراتی ادارے تارا چند ہسپتال کی یاد آئی تھی جسکے بانی سیٹھ تارا چند نے اسکے فرش پر اپنا نام اس لیے لکھوایا تھا کہ جب درد کے مارے مریض اور مریضوں کے لواحقین اس فرش پر انکے نام کے اوپر اپنے پاؤں رکھ کر چلیں تو انہیں (تارا چند کو ) سکون حاصل ہوگا۔

اب تو وہ پورا شکارپور جو مجھے ہالی وڈ کے سن سیٹ بولیوارڈ دیکھ کر یا د آتا تھا پورے ملک کے ساتھ ایسے لتاڑا گیا جیسے طالبان نے بامیان اور سوات میں عظیم بدھ کے مجسمے ملیامیٹ کر کے رکھ دیے تھے۔ اور اسکے بعد وطن عزیز سے کوئی اچھی خبر نہیں آئي کیونکہ ’دشت تو دشت ہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے، بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وحیدہ شاہ نے سب کے سامنے پولنگ اہلکاروں کو تھپڑ مارے

شدت پسندی نے دنیا کے چہرے کو ایسا بگاڑ کر رکھ دیا جیسے ایک دہشت پسند اوباش نے شکارپور کی نوجوان نرس ماریا شاہ کے چہرے کو بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔

لیکن اب میرے اصل وطن عزیز سے ایک اچھی خبر شرمین عبید کے روپ میں آسکر ایوارڈ جیتنے کی آئي ہے۔ جو انہوں نے اپنی دستاویزی فلم ’سیونگ فیس‘ پر اسی سال کے آسکرز میں حاصل کیا ہے۔

اس سے قبل نیویارک ٹائمز کی سابقہ فیلو شرمین عبید طالبان اور خودکش بمباروں پر دستاویزی یا شارٹ فلمیں بھی بنا چکی ہیں۔

انکی طالبان پر بنائی ہوئی فلم پر ایک بحث اور شو نیویارک کی ایشیا سوسائٹی میں بھی ہوا تھا جہاں ایک عرصے تک کراچی میں انتہا پسندی کو کور کرنے والے صحافی مظہر عباس اور شرمین عبید کے درمیان دلچسپ لیکن مشکل سوالات و جوابات بھی ہوئے تھے۔ جہاں امریکی صحافی میری این ویور بھی شرمین کی فلم پر پینل میں بولنے والوں میں شامل تھیں۔

لیکن شرمین عبید نے اب جو آسکر ایوارڈ جس فلم ’سیونگ فیسز‘ پر حاصل کیا ہے وہ پاکستان میں چہروں اور جسم پر تیزاب انڈیلے جانے جیسے تشدد کی شکار خواتین اور انکا کا علاج کرنے والے پاکستانی نژاد پلاسٹک سرجن ڈاکٹر جواد کی کہانی پر مشتمل ہے۔

پاکستان میں خواتین ایسے گھناؤنے جرم کا شکار ہر طبقے اور ہر قسم کے خونخوار مجرم مردوں کے ہاتھوں ہوتی ہیں۔

لیکن اس کے برعکس پاکستان میں شرمین جیسی خواتین کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ’اندھیرے چھٹ بھی سکتے ہیں۔‘ اسی لیے تو انہوں نے کہا کہ ’میرا یہ ایوارڈ پاکستان میں ان تمام خواتین کے نام ہے جو سرگرم عمل ہیں ۔ ڈونٹ گو اپ۔ ہمت نہ ہارنا۔‘

لیکن دوسری کہانی میں مجھے لگا کہ پور ے ملک اور جمہوریت کے منہ پر زوردار تمانچہ ایک عورت کو ایک خاتون وحیدہ شاہ نے مار دیا۔

سندہ کے ایک اور خوبصورت حصے لاڑ کے شہر ٹنڈو محمد خان میں حالیہ ضمنی انتخابات کے دوران ایک پولنگ سٹشین پر حکمران پی پی پی کی خاتون امیدوار وحیدہ شاہ نے خواتین پولنگ اہلکارروں کو تھپڑ مارے ۔ پولیس افسر بھی دیکھتے رہے۔ پورا ملک دیکھتا رہا۔ بس فیض کا شعر یاد آتا رہا:

اک گردن مخلوق جو ہر حال میں خم ہے

اک بازوئے قاتل ہے جو خوں ریز بہت

اسی بارے میں