ایران سے تعاون قومی مفاد میں ہے:حنا کھر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت سے تجارتی تعلقات معمول پر لانے سے مسئلہ کشمیر کے معاملے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ایران سے تجارتی تعلقات کے متعلق امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کی دھمکیوں کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایران سے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھائے گا کیونکہ توانائی کا بحران ختم کرنے کےلیے ایسا کرنا ضروری ہے۔

یہ بات انہوں نے جمعرات کو اپنے دورۂ برطانیہ، روس اور افغانستان کے بارے میں دفترِ خارجہ میں بریفنگ کے دوران بتائی۔

انہوں نے ایران سے گیس پائپ لائن بچھانے پر امریکی اعتراضات کو رد کیا اور واضح پیغام دیا کہ پاکستان فیصلہ اپنے قومی مفاد میں کرے گا۔

ایران سے تجارتی تعلقات بڑھانے پر امریکی پابندیوں کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ ’پابندیاں ہمیں کیسے متاثر کرتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جب پل آئے گا تو عبور کرلیں گے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ یکطرفہ پابندیوں پر عمل نہیں ہوگا۔۔۔ ہم اور دنیا بات چیت سے یہ طے کریں گے اور پوری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ یہ خطہ ایک اور فوجی کارروائی کی وجہ سے عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا‘۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ سے باہمی احترام کی بنیاد پر از سر نو تعلقات کا جائزہ لینے کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس رواں ماہ کے وسط میں بلایا جائے گا۔ ان کے مطابق بارہ مارچ کو نصف سے زیادہ سینیٹ کے نئے اراکین منتخب ہوں گے اس لیے وہی فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان جو بھی ’روڈ میپ‘ تیار کرے گی حکومت اس کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے امریکہ سے تعلقات قائم کرنے پر بات کرے گا اور نیٹو کی رسد کی فراہمی کا فیصلہ بھی پارلیمان کرے گی۔

امریکی حکام کو پاکستان کے دورے سے روکنے اور امریکی حکام سے ملک سے باہر ملاقاتوں کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس لیے امریکی حکام کو روکا کہ جب تک پارلیمان کوئی حتمی فیصلہ کرے اس کے بعد آئیں۔ ان کے بقول جہاں تک امریکی حکام سے ملک سے باہر ملنے کا تعلق ہے تو وہ ’سائیڈ لائن‘ پر ملاقات ہوئی اور یہ ان کا کام ہے کہ بات چیت کریں۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بھارت سے تجارتی تعلقات معمول پر لانے سے مسئلہ کشمیر کے معاملے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ ان کے بقول تعلقات بہتر ہونے سے تمام متنازعہ مسائل بات چیت سے حل کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح کے حوالے سے کہا کہ وہ بھارت سے معمول کے تعلقات کے حامی تھے اور انیس سو سینتالیس سے انیس سو پینسٹھ تک بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات معمول کے مطابق رہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں بھارت کے ساتھ اعتماد کی فضا پیدا کی ہے جو کہ بہتر تعلقات اور تمام مسائل کے حل کے لیے معنی خیز بات چیت کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’قومی مفاد‘ کا حتمی فیصلہ کابینہ نے کرنا ہے اور بھارت سے معمول کے مطابق تجارتی تعلقات کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ حنا ربانی کھر نے یہ واضح پیغام دیا کہ معاملہ ایران کا ہو یا ہندوستان کا، قومی مفاد کا تعین عوام کی منتخب قوتیں کریں گی۔ ایک موقع پر تو انہوں نے کہا کہ ملک کا قومی مفاد اس کے شہریوں کا ہی قومی مفاد ہوگا۔

حنا ربانی کھر نے حال ہی میں پاکستان، ایران اور افغانستان کے صدور کی ملاقات کو خطے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک کا آپس میں تعاون ضروری ہے کیونکہ جو کچھ بھی اس خطے میں ہوگا اس کا نفع یا نقصان سب سے پہلے تینوں ممالک کو ہی ہوگا۔

انہوں نے خلیجی ممالک سےآزادانہ تجارت کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس بارے میں خلیجی ممالک کی کونسل سے بات چیت ہو رہی ہے اور اب تک دو دور ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں