کراچی:ایف سی اہلکاروں کی فائرنگ،ایک ہلاک

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکاروں کی فائرنگ سے مقامی مدرسے کا ایک طالب علم ہلاک اور چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ جمعرات کی دوپہر کو قائد آباد ہپستال چورنگی کے قریب پیش آیا جہاں ایک مدرسے کا تعمیری کام جاری ہے۔

قائد آباد پولیس کا کہنا ہے کہ تعمیری کام کی وجہ سے سڑک بلاک ہوگئی تھی۔ ایف سی اہلکاروں نے سڑک خالی کرانے کی کوشش کی جس کے دوران تلخ کلامی ہوگئی۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ اہلکاروں نے اپنے بچاؤ میں فائرنگ کی جس میں عبدالرحمان، زر ولی اور علی زمان اور شوکت زخمی ہوگئے اور بعد ازاں عبدالرحمان ہسپتال میں چل بسے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما یاسر کنڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ سڑک پر سیمنٹ اور بجری ملانے والی مشین کھڑی تھی ایف سی نے اسے زبردستی ہٹانے کا حکم دیا طالب علموں نے جب انکار کیا تو انہوں نے سیدھی فائرنگ کی جس میں ایک طالب علم ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ جامع مدینہ مدرسہ میں تین سو سے زائد طالب علم زیرِ تعلیم ہیں اور مدرسے کی دوسری منزل بنانے کا کام جاری تھا۔

اس واقعے کے خلاف مدرسے کے طالب علموں نے احتجاج کیا اور ٹائر نذرِ آتش کرکے ٹریفک کو معطل کردیا۔

مظاہرین نے فائرنگ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ پولیس حکام کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کر دیا گیا۔

قائد آباد پولیس نے چاروں ایف سی اہلکاروں کو گرفتار کرلیا ہے اور ان پر قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافے کے بعد رینجرز کی مدد کے لیے ایف سی کو طلب کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بعض وفاقی اداروں کی سکیورٹی پر بھی ایف سی تعینات ہے۔

اسی بارے میں