بگٹی کے قاتل پکڑنے تک اے پی سی سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کی جماعت بلوچستان کے بارے میں کل جماعتی کانفرنس میں اس وقت تک شرکت نہیں کرے گی، جب تک بزرگ بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے۔

صدر آصف علی زرداری کے آبائی ضلع نوابشاہ کے شہر قاضی احمد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو پاکستان کی خبر لینی چاہیے اور حکومت کو ہوش میں آنا چاہیے کیونکہ بلوچستان کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے، ایسا نہ ہو یہ ملک خدانخواستہ ہاتھ سے نکل جائے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ انہیں دو مرتبہ عوام نے منتخب کیا مگر بدقسمتی سے انہیں کام کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا، اگر انہیں مدت پوری کرنے دی جاتی تو آج حقیقت میں پاکستان ایشین ٹائیگر بن چکا ہوتا۔

سابق وزیر اعظم نے سیلاب کے متاثرین سے ہمدری کا اظہار کیا اور انہیں یاد دہانی کرائی کہ سب سے پہلے وہ ان کی مدد کے لیے آگے آئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے کئی علاقے تاحال زیر آب ہیں جو لوگ کل تک خیرات دیتے تھے آج وہ خود خیرات لینے پر مجبور ہیں مگر حکومت لوگوں کا درد اور تکلیف کم کرنے کے لیے اقدامات نہیں کر سکی ہے۔

میاں نواز شریف نے اپنی حکومتوں میں تعمیر کیے گئے منصوبوں کی یاد دہانی بھی کرائی اور پنجاب حکومت کے جاری منصوبوں کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں طالب علموں کو لیپ ٹاپ دیئے جا رہے ہیں یہاں سندھ میں بھی حکومت کو ایسے منصوبے متعارف کرانے چاہیئیں۔

اسی بارے میں