سینیٹ انتخابات میں پیپلز پارٹی سرِ فہرست

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سینیٹ کی کُل ایک سو چار نشستیں ہیں جن میں سے آدھی نشستوں پر ہر تین سال بعد انتخابات ہوتے ہیں

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا کے انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے مطابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی انیس نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ سر فہرست رہی ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز آٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہی۔ عوامی نیشنل پارٹی نے سات، مسلم لیگ قاف، جمیعت علماء اسلام (ف) اور ایم کیو ایم نے چار چار، بی این پی عوامی پارٹی نے دو اور مسلم لیگ فنکشنل نے ایک نشست حاصل کی ہے جبکہ پانچ آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

جن چوّن نشستوں پر جمعہ کو انتخاب ہوا ان میں سے پچاس سینیٹرز کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے خالی ہوئیں جبکہ باقی چار اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں ہیں جو اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے تخلیق کی گئی ہیں۔

پاکستانی سینیٹ کی کُل ایک سو چار نشستیں ہیں جن میں سے آدھی نشستوں پر ہر تین سال بعد انتخابات ہوتے ہیں۔

پنجاب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اعتزاز احسن ٹیکنوکریٹس کی نشست پر بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں

صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ نون نے سات، پیپلز پارٹی نے تین، مسلم لیگ قاف نے ایک جبکہ ایک نشست آزاد امیدوار محسن لغاری نے جیتی ہے۔ محسن لغاری کو پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ نون اور یونیفکشن بلاک کی حمایت حاصل تھی۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق جنرل نشستوں پر کامیاب ہونے والے والوں میں مسلم لیگ ن کے چار امیدوار سردار ذوالفقار کھوسہ، ظفر اللہ ڈھانڈلہ، ایم حمزہ اور رفیق رجوانہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے بابر اعوان، مسلم لیگ قاف کے کامل علی آغا بھی شامل ہیں۔

ان انتخابات میں پیپلز پارٹی کے اسلم گِل کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسلم گل کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے چند ووٹروں نے غداری کی ہے کیونکہ پارٹی قیادت نے اڑتالیس اراکین پنجاب اسمبلی کو میری حمایت کرنے اور ووٹ ڈالنے کاکہا تھا لیکن تمام اڑتالیس نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔

پنجاب سے پانچ نشستوں پر پہلے ہی سینیٹ کے ارکان بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔ اسحاق ڈار اور اعتزاز احسن ٹیکنو کریٹس کی نشستوں پر، کامران مائیکل اقلیتی نشست پر جبکہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر نزہت صادق اور خالدہ پروین بلامقابلہ منتخب ہوئی ہیں۔

سندھ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایم کیو ایم کے سابق ناظم مصطفٰی کمال بھی سینیٹر منتخب

سندھ سے سینیٹ کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سات، متحدہ قومی موومنٹ نے چار اور مسلم لیگ فنکنشنل نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق صوبائی الیکشن کمشنر سونو خان بلوچ نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رضا ربانی، عبدالحفیظ شیخ، سعید غنی، عاجز دھامراہ، ڈاکٹر کریم خواجہ، سحر کامران اور ہری رام کشوری لال کامیاب ہوئے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے کامیاب سینیٹرز میں فروغ نسیم، سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال، نسرین جلیل اور طاہر مشہدی شامل ہیں جبکہ مسلم لیگ فنکنشنل کے مظفر شاہ بھی سینیٹر بن گئے ہیں۔

بلوچستان

کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچستان کی بارہ نشستوں کے لیے الیکشن ہوا۔

بلوچستان سے کامیاب ہونے والے سینیٹرز میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بیرسٹر سیف اللہ مگسی، یوسف بلوچ اور سردار فتح محمد حسنی، مسلم لیگ ق کے محمود الحسن مندوخیل اور روبینہ عرفان، اے این پی کے داؤد پیر علی زئی، جمیعت علمائے اسلام کے حافظ حمد اللہ اور بی این پی(عوامی) کے اسرار اللہ زہری اور نسیمہ احسان شامل ہیں۔

ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر پپلزپارٹی کے امیدوار روزی خان کاکڑ اور جمیعت علماء اسلام ف کے امیدوار مفتی عبدالستار کو کامیاب قرار دیا گیا جبکہ اقلیت کی نشست پر جمیعت علماء اسلام ف سے تعلق رکھنے والے امیدوار امن داس کامیاب قرار پائے۔

خیبر پختونخوا

صوبۂ خبیر پختونخوا میں غیر حتمی نتائج کے مطابق بارہ نشستوں میں سے عوامی نیشنل پارٹی نے چھ، پیپلز پارٹی نے چار جبکہ جمیعت علماء اسلام ف اور مسلم لیگ نون نے ایک ایک نشست حاصل کی ہے۔

عام نشستوں پر عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار شاہی سید، وزیراعلی امیر حیدر ہوتی کے والد اعظم ہوتی اور باز محمد خان، پاکستان پیپلز پارٹی کے احمد حسن اور سیف اللہ بنگش، جمعیت علماء اسلام ف کے امیدوار طلحہ محمود اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے نثار محمد خان کامیاب قرار پائے ہیں۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایا کہ ٹیکنو کریٹس کی نشستوں پر عوامی نیشنل پارٹی کے الیاس بلور اور پاکستان پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر کامیاب قرار پائے ہیں۔

خواتین کی نشستوں پر عوامی نیشنل پارٹی کی امیدوار زاہدہ خان اور پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار روبینہ خالد کامیاب ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ اقلیتوں کی نشست پر اے این پی کے امیدوار امر جیت نے کامیابی حاصل کی۔

عوامی نیشنل پارٹی نے ان انتخابات میں جماعت کے اہم رہنماؤں کے علاوہ ایک ٹکٹ دیر سے تعلق رکھنے والے دیرینہ پارٹی کارکن شیر محمد کی بیٹی زاہدہ خان کو بھی دیا جو ساٹھ ووٹ لیکر کامیاب ہوئی ہیں۔ ان کے والد شیر محمد دہشت گردی کے ایک واقعہ میں ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیاب رکن روبینہ خالد معروف مصنف اور ٹی وی پروڈیوسر رؤف خالد کی بیوہ اور صوبائی وزیر صحت ظاہر شاہ کی ہمشیرہ ہیں۔

فاٹا، اسلام آباد

الیکشن کمیشن کے ترجمان الطاف احمد نے اسلام آباد میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار اعجاز مہر کو بتایا کہ غیر حتمی نتائج کے مطابق وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا سے جو چار نئے سینیٹرز منتخب ہوئے ہیں ان میں محمد صالح شاہ، ملک نجم الحسن، ہدایت اللہ اور ہلال الرحمٰن شامل ہیں۔

ان کے مطابق ہلال الرحمٰن قرعہ اندازی سے سینیٹر منتخب ہوئے جبکہ دیگر تینوں نے پانچ، پانچ ووٹ حاصل کیے۔ ہلال الرحمٰن اور چار دیگر امیدواروں کے چار، چار ووٹ تھے اور ان کا فیصلہ قرعہ اندازی سے کیا گیا۔

اسلام آباد سے سینیٹ کی دو نشستوں پر مسلم لیگ قاف کے مشاہد حسین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے عثمان سیف اللہ کا بلا مقابلہ انتخاب ہوا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق سینیٹ کے انتخابات کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان مسلم لیگ قاف کو ہوا کیونکہ اس کے بیس کے قریب سینیٹرز ریٹائر ہوئے ہیں جبکہ سب سے زیادہ فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ہوگا کیونکہ اب الیکشن کے بعد اسے سینیٹ کی ایک سو چار نشتسوں میں سے اکتالیس نشستیں حاصل ہو جائیں گی۔

دریں اثناء صدر کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدر زرداری نے سینیٹ کا اجلاس بارہ مارچ کی صبح دس بجے طلب کر لیا ہے اور اس دن نومنتخب 54 سینیٹرز حلف اٹھائیں گے۔

اسی بارے میں