خیبر ایجنسی میں دس سکیورٹی اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک حملے میں دس سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ جوابی کارروائی میں تئیس شدت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

پشاور میں فرنٹیئر کور کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب مسلح شدت پسندوں نے باڑہ سب ڈویژن کے علاقے میرئی سر میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں فرنٹیئر کور کے دس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔

ترجمان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں مسلح شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بھاری توپ خانے سے گولہ باری کی۔

انہوں نے کہا کہ صبح پانچ بجے تک دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

ترجمان کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تئیس عسکریت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حملے میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ اور اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ حملے ایسے وقت ہورہے ہیں جب تقربناً تین ماہ قبل ہی سکیورٹی فورسز نے باڑہ کے کچھ علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

اس آپریشن کی وجہ سے بیس ہزار سے زائد افراد نے بے گھر ہوکر جلوزئی مہاجر کیمپ میں پناہ لے رکھی ہے۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن کے باعث شدت پسندوں کو زیادہ تر مقامات سے بھاگنے پر مجبور کیا گیا ہے اور یہ حملہ بھی انہی کارروائیوں کا ردعمل ہوسکتا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ باڑہ میں مجموعی طورپر پچھلے تین چار سالوں سے کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم ابھی تک کوئی علاقہ مکمل طورپر کلیئر نہیں کیا جاسکا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کبھی مستقل طورپر نہیں کیا گیا بلکہ کبھی ان میں تیزی آجاتی ہے اور کبھی اچانک خاموشی ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر ایجنسی میں کوئی بھی ایسا علاقہ موجود نہیں جس کے بارے میں دعوے سے کہا جا سکے کہ وہ سو فیصد عسکریت پسندوں سے صاف کرایا گیا ہے۔

اسی بارے میں