’شہباز بھٹی کا مشن جاری رکھیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک سال بعد بھی تفتیش کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا: پال بھٹی

وزیرِاعظم پاکستان کے مشیر برائے اقلیتی امور اور مقتول وزیر شہباز بھٹی کے بھائی ڈاکٹر پال بھٹی کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں سے صرف اقلیت متاثر نہیں ہوتی بلکہ اکثریت پر بھی اثر پڑتا

انہوں نے یہ بات اقلیتی امور کے سابق وزیر شہباز بھٹی کے قتل کی پہلی برسی کے موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔

شہباز بھٹی کی پہلی برسی

دو مارچ کو شہباز بھٹی کے قتل کو ایک برس مکمل ہو گیا ہے تاہم ابھی تک قاتلوں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ گزشتہ ماہ انٹرپول کی مدد سے دو ملزمان کو دبئی سے پکڑا گیا، تاہم عدم ثبوت کی بناء پر انہیں رہا کر دیا گیا۔

بی بی سی کی نامہ نگار عنبر شمسی سے بات کرتے ہوئے پال بھٹی نے کہا کہ وہ مایوس ہیں کہ ایک سال بعد بھی تفتیش کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ انہوں نے مختلف ایجنسیوں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے دسمبر میں وزیرِ داخلہ رحمان ملک اور آئی جی پولیس کے ساتھ پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ شہباز بھٹی کے قتل میں شدت پسند تنظیموں کا ہاتھ ہے۔‘

احمدی اور ہندو برادریوں پر حالیہ حملوں کے پیشِ نظر اس سوال پر کہ کیا شہباز بھٹی کا مشن برائے بین المذاہب ہم آہنگی اور متحد پاکستان کا پیغام ادھورا رہ گیا ہے تو انہوں نے کہا ’ایسی قوتوں کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ ہم اس سطح پر نہیں پہنچے کہ ہم ان کا ابھی مقابلہ کر سکیں۔ شہباز بھٹی کے قتل کو ایک سال گزرنے کے باوجود صرف اقلیتوں کا مسئلہ نہیں ہے، ہمارے دوسرے مسائل بھی ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں سے صرف اقلیت متاثر نہیں ہوتی بلکہ اکثریت پر بھی اثر پڑتا ہے‘۔

ڈاکٹر پال بھٹی نے کہا کہ وہ شہباز بھٹی کی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

’ہمارا مقصد شہباز بھٹی کے مشن کو جاری رکھنا ہے۔ اس کے لیے ہم شہباز بھٹی کے نام سے یونیورسٹی کا افتتاح کریں گے جو بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دے گی۔ اسی سلسلے میں پاکستان میں بین الاقوامی کانفرنس کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں بیرون اور اندرونِ ملک کے مذہبی اور سیاسی رہنماء شرکت کریں گے‘۔

ادھر شہباز بھٹی کے قتل کو ایک برس گزرنے پر ملک کے مختلف شہروں میں یادگاری تقریبات ہوئیں جن میں ان کے نظریہ اور سوچ کو فروغ دینے کا عہد کیا گیا۔

اسلام آباد، کراچی اور پشاور میں اقلیتوں کے نمائندوں اور کاکنوں نے شہباز بھٹی کی یاد میں موم بتیاں جلائیں اور دعائیں پڑھیں۔

سب سے بڑی تقریب شہباز بھٹی کے آبائی شہر فیصل آباد میں منعقد ہوئی جس میں ان کے لواحقین اور بشپ آف فیصل آباد بھی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ سول سوسائٹی، غیر ملکی اور پاکستانی مائنورٹی الائنس کے کارکن بھی اس تقریب میں شامل ہوئے۔

اسی بارے میں