پیپلز پارٹی کی ’بارگیننگ پوزیشن‘ مضبوط

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سینیٹ میں پہلے تیرہ سیاسی جماعتیں تھیں لیکن اب نو رہ گئی ہیں

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کی چون نشستوں پر انتخاب کے بعد تاحال غیر حتمی نتائج کے مطابق حکمران پاکستان پیپلز پارٹی انیس نشستیں جیتنے کے بعد ایوان میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

ایک سو چار نشستوں والے سینیٹ میں مجموعی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی اکتالیس نشستیں ہوگئی ہیں جبکہ حکومتی اتحادی جماعتوں کی تعداد ستر ہوگئی ہے اور یوں انہیں دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ بلوچستان میں دھاندلی کے الزامات کے بعد پانچ مارچ کو دوبارہ گنتی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور حتمی صورتحال اس کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

سینیٹ کی پہلے ایک سو نشستیں تھیں لیکن اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے پہلی بار ایوان بالا میں اقلیتوں کے لیے ہر صوبے سے ایک ایک یعنی کل چار نشستیں مختص کی گئیں اور اب سینیٹ کے اراکین کی مجموعی تعداد ایک سو چار ہوگئی۔

آئین اور قانون کے مطابق جو چار اقلیتوں کے اراکین منتخب ہوئے ہیں ان کی قرعہ اندازی کے ذریعے یہ طے کیا جائے گا کہ ان میں سے کن دو سینیٹرز کی مدت چھ سال ہوگی اور کن دو کی تین سال ہوگی۔

ایک سو چار اراکین والے سینیٹ میں فاٹا کے آٹھ اراکین سمیت آزاد اراکین کی تعداد بارہ ہوگئی ہے جبکہ بانوے سینیٹرز کا تعلق نو سیاسی جماعتوں سے ہے جس میں پیپلز پارٹی کے اکتالیس، مسلم لیگ (ن) کے چودہ، عوامی نیشنل پارٹی کے بارہ، متحدہ قومی موومیٹ اور جمیعت علماء اسلام (ف) کے سات سات، مسلم لیگ (ق) پانچ، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) چار، مسلم لیگ (ف) اور نیشنل پارٹی کی ایک ایک نشست ہے۔

سینیٹ میں پہلے تیرہ سیاسی جماعتیں تھیں لیکن اب نو رہ گئی ہیں۔ جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی شیرپاؤ، جمہوری وطن پارٹی اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کی سینیٹ سے نمائندگی ختم ہوگئی ہے۔

شیر پاؤ کے علاوہ باقی تینوں جماعتوں نے سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات کا میاں نواز شریف کے ہمراہ ’آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس‘ کے پلیٹ فارم سے بائیکاٹ کا فیصلہ تھا لیکن آصف علی زرداری کی درخواست پر میاں نواز شریف کی جماعت نے عین وقت پر بائیکاٹ کا فیصلہ ختم کرکے انتخاب میں حصہ لیا اور دیگر نے نہیں لیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بظاہر سندھ میں متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ (ف) کو ایک ایک نشست کا تحفہ دیا ہے جو کہ مستقبل کے سیاسی تعاون کے لیے ان کی ایک لحاظ سے سیاسی سرمایہ کاری لگتی ہے کیونکہ وہ دوسری بار بھی صدرِ پاکستان منتخب ہونا چاہتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کوئی شخص دو بار صدر منتخب ہوگا۔

پیپلز پارٹی نے پنجاب میں غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے ایک نشست کھو دی ہے جہاں مسلم لیگ (ق) فارورڈ بلاک کے محسن لغاری کامیاب قرار پائے اور پیپلز پارٹی کے کارکن محمد اسلم گِل غیر متوقع طور پر ہار گئے۔

انہیں دوسری ترجیح کے ووٹ نہ مل پائے۔ پیپلز پارٹی کے لاہور کے بعض رہنما اس کا ذمہ دار بابر اعوان کو قرار دے رہے ہیں اور ان کے خلاف جلوس بھی نکالا لیکن صدر آصف علی زرداری نے سرزنش راجہ ریاض کی کی ہے۔

محسن لغاری نے مسلم لیگ (ن) کی مدد سے آزاد حیثیت میں سینیٹ کی نشست جیتی ہے اور امکان ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کریں گے جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی سینیٹ میں تعداد پندرہ ہوجائے گی۔ سینیٹ کے انتخاب کے بعد جمیعت علماء اسلام (ف) اپوزیشن لیڈر کا عہدہ کھو دے گی اور یہ عہدہ اب مسلم لیگ (ن) کو ملے گا اور امکان ہے کہ اسحٰق ڈار سینیٹ کے نئے اپوزیشن لیڈر ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آصف علی زرداری نے سندھ میں متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ (ف) کو ایک ایک نشست کا بظاہر تحفہ دیا ہے

سینیٹ کے اس انتخاب کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ موجودہ اسمبلیوں نے دو بار سینیٹر منتخب کیے ہیں۔ پہلی بار پرویز مشرف کے دور میں ہوا جب سنہ دو ہزار تین اور دو ہزار چھ میں سینیٹر منتخب ہوئے۔ لیکن وہ تو آمریت تھی اور اس اعتبار سے جمہوری دور میں یہ پہلا موقع بنتا ہے جو کہ ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کی نشانی بھی ہے۔

موجودہ سینیٹ میں پہلی بار پیپلز پارٹی کی اتنی بڑی تعداد یعنی اکتالیس نشستیں ملی ہیں اور آئندہ انتخابات میں سینیٹ میں ان کی افرادی قوت نئے سیاسی سیٹ اپ میں پیپلز پارٹی کی ’بارگیننگ پوزیشن‘ کو بھی مضبوط بنائے گی۔ بالفرض اگر پیپلز پارٹی آئندہ سیاسی سیٹ اپ سے اگر باہر بھی ہوگئی تو نئی حکومت کے لیے پیپلز پارٹی ایک مضبوط اپوزیشن ہوگی۔

بصورت دیگر اگر موجودہ حکومتی اتحاد برقرار رہتا ہے تو مسلم لیگ (ن) کے لیے مستقبل کے حکومتی سیٹ اپ میں سیاسی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اگر کوئی معجزہ ہوجائے تو وہ اور بات ہے لیکن ایسا نہ ہونے کی صورت میں ان کے پاس پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون یا اپوزیشن میں بیٹھنے کے آپشن ہی بچتے ہیں۔

اسی بارے میں