’سرائیکی صوبہ ہو سکتا ہے تو ہزارہ کیوں نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں اتوار کو تحریک صوبہ ہزارہ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو سمجھنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے وزیرِ اعظم ہیں نہ کہ صرف سرائیکی علاقے کے۔

یہ بات تحریک صوبہ ہزارہ کے قائد بابا حیدر زمان نے کراچی میں باغِ قائد میں جلسے میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس جلسے کا مقصد ہزارہ صوبے کے قیام کی تحریک کو آگے بڑھانا ہے۔

’اگر وزیر اعظم پاکستان سرائیکی صوبہ بنانے کی بات کرسکتے ہیں تو پھر ہزارہ صوبہ کیوں نہیں۔‘

کراچی کی حالیہ سیاسی تاریخ میں ہونے والے جلسوں میں شرکاء کی تعداد کے اعتبار سے یہ سب سے چھوٹا جلسہ تھا جس میں قریب چھہ سات ہزار لوگ ہی شریک تھے۔

کراچی میں ہمارے نامہ نگار حسن کاظمی نے بتایا کہ جلسہ مقررہ وقت دو بجے کی بجائے چار بجے شروع ہوا جو مغرب تک جاری رہا۔ شرکاء کی بڑی تعداد کا تعلق کراچی میں موجود ہندکو بولنے والی برادری سے ہی تھا۔

جلسے میں ہندکو زبان میں نغمے بھی وقفے وقفے سے بجائے جارہے تھے جس لوگ بہت محظوظ ہورہے تھے۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ یہ تحریک کسی کے خلاف نہیں بلکہ ہزارے کے عوام کے حقوق کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کے حکمرانوں نے اس ملک سے غداری کی ہے اور یہاں کا پیسہ باہر بھیج دیا ہے۔

مقررین نے بارہا ایم کیو ایم اور اس کے قائد الطاف حسین کا بھی شکریہ ادا کیا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک صوبہ ہزارہ کے قائد بابا حیدر زمان نے کہا کہ ملک میں جہاں بھی صوبے بنانے کا مطالبہ ہے وہاں صوبے بنائے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں کیونکہ ہزارے کے افراد کا احساس ِ محرومی بھی بلوچستان کے لوگوں کی طرح انتہا کو پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے خصوصیت سے ایم کیو کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایم کیو ایم نے قومی جماعت ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ان پر احسان کیا ہے اور وہ یہ نہیں بھول سکتے۔

انہوں نے عدلیہ سے بھی گلہ کیا کہ دو ہزار دس میں تحریک کے دوران مارے جانے والے افراد کی ہلاکت کا از خود نوٹس کیوں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب تحریک صوبہ ہزارہ ایک سیاسی جماعت ہے جس کا انتخابی نشان ٹرک ہے اور وہ آئندہ انتخابات میں اس کے تحت حصہ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی تحریک کی جو بھی سیاسی جماعت حمایت کرے گی وہ اس کے شکر گزار ہوں گے۔

انہوں نے شرکاء سے کہا کہ کراچی امن کو خراب نہ ہونے دیں کیونکہ یہ شہر سب کا ہے۔

اسی بارے میں